ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

جنگ بندی میں توسیع کے حق میں نہیں ہوں، امریکا فوجی کارروائی کیلئے تیار ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ جنگ بندی میں کسی قسم کی مزید توسیع کے حق میں نہیں ہے اور یہ مرحلہ بہت جلد ایک بڑے اور جامع معاہدے کے ذریعے اپنے اختتام کو پہنچ جائے گا۔

امریکی صدر نے ایک انٹرویو کے دوران گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کسی عظیم الشان معاہدے کی صورت میں ختم ہونے جا رہا ہے، جنگ بندی کے خاتمے میں اب بہت کم وقت باقی رہ گیا ہے اور وہ اس میں توسیع کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا اس وقت مذاکرات کے لیے انتہائی مضبوط پوزیشن میں موجود ہے، ایران پر عائد پابندیوں اور دباؤ کی حکمت عملی نہایت مؤثر ثابت ہوئی ہے جبکہ ضرورت پڑنے پر فوجی حل کے آپشن کو بھی مکمل طور پر تیار رکھا گیا ہے، اگر ایران معاہدہ کر لیتا ہے تو اسے ایک مضبوط پوزیشن حاصل ہو سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کے ساتھ معاملات کو نہایت مؤثر انداز میں سنبھال رہا ہے اور اس حوالے سے کسی بھی فیصلے میں جلد بازی نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے یہ بھی زور دیا کہ اس معاملے میں مزید وقت کی گنجائش موجود نہیں رہی اور امریکا ہر ممکن صورت حال کے لیے تیار ہے، جس میں فوجی کارروائی کا امکان بھی شامل ہے۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کو معاہدے کے سوا کوئی دوسرا راستہ دستیاب نہیں رہا، ایران کی بحریہ، فضائیہ اور مرکزی قیادت کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے، اسے اگر حکومت کی تبدیلی کا نام دیا جائے تو دیا جا سکتا ہے، تاہم انہوں نے کبھی براہ راست حکومت کی تبدیلی کا اعلان نہیں کیا تھا بلکہ جو نتائج سامنے آئے وہ خود عمل کا حصہ ہیں۔

دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور دیگر اعلیٰ حکام کی ایک ٹیم آج پاکستان روانہ ہو رہی ہے جہاں ایران کے ساتھ ممکنہ دوسرے دور کے امن مذاکرات متوقع ہیں، تاہم تہران کی شرکت ابھی تک غیر یقینی ہے۔ صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب امریکہ نے بحرِ ہند میں ایک ایسے جہاز کو روک لیا جو مبینہ طور پر ایرانی تیل لے جا رہا تھا، جس پر ایران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔

اسی دوران ٹرمپ نے ایک اور دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے ایک جہاز کو روکا ہے جس میں “چین کا تحفہ” موجود تھا، تاہم اس حوالے سے تفصیلات واضح نہیں کی گئیں جبکہ امریکی انٹیلی جنس رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چین ایران کو آئندہ ہفتوں میں جدید دفاعی نظام فراہم کر سکتا ہے، یوں خطے میں کشیدگی، سفارتی دباؤ اور ممکنہ فوجی تصادم کے خدشات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے

 

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں