چیکنگ کے دوران گاڑی پکڑی گئی، نشاندہی پر مرکزی ملزم کا پتہ چلا
ایبٹ آباد سے اغوا کے بعد اسلام آباد سے بازیاب ہونے والا بچہ پولیس اہلکاروں کے ساتھ
ایبٹ آباد سے 10 کروڑ روپے تاوان کی خاطر اغوا کیے جانے والے 12 سالہ بچے کو اسلام آباد پولیس نے بازیاب کر لیا۔
ایبٹ آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب میں ایس پی کینٹ سلمان خان نے بتایا کہ 12 سالہ مغوی محمد ابراہیم گھر سے اچانک غائب ہو گیا، مغوی کے والد کو موبائل پر ایک پیغام موصول ہوا، جس میں بچے کی بازیابی کے لیے 10 کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا گیا اور عدم ادائیگی پر بچے کو قتل کرنے کی دھمکی دی گئی۔
ایس پی کا کہنا تھا کہ ایبٹ آباد پولیس نے فوری طور پر راولپنڈی اور اسلام آباد پولیس کو متحرک کیا اور ممکنہ روٹس کی ناکہ بندی کروائی۔ ترنول ناکہ بندی پر مشکوک گاڑی کو روکا گیا اور 12 سالہ بچے کو بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا۔
پولیس نے اغوا کار اویس ہارون، نیاز اور احمد علی کو گرفتار کر لیا اور ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لاتے ہوئے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی۔
ادھر اسلام آباد میں پولیس نے بتایا کہ تھانہ ترنول اصغر ناز ایس ائی ہمراہ ٹیم ناکہ 26 نمبر سنیپ چیکنگ کر رہے تھے ایک ہونڈا سٹی گاڑی نمبرCF.513 برنگ سفید موٹروے سے بجانب جی ٹی روڈ ارہی تھی جس کو مشکوک جان کر با امداد ہمرائیاں رو ک کر چیک کرنے پر گاڑی میں بیٹھے ہوئے ایک نو جوان نے اپنا نام نیاز خان ولد عمر فاروق سکنہ کوہستان بتلایا دوسرے کا نام علی احمد ولد شبیر حسین ساکن شاہ سلطان محلہ قاسم اباد راولپنڈی معلوم ہوا۔ ان کے ساتھ گاڑی میں پچھلی سیٹ پر ایک چھوٹی عمر کا بچہ بعمر 12 سال عبداللہ ولد ابراہیم ساکن ایبٹ اباد معلوم ہوا جن کو مشکوک جان کرپتہ براری کرنے پر بچے نے بتلایا کہ مجھے یہ لوگ ایبٹ اباد سے اغوا کر کے لائے ہیں جس پر نیاز خان اور علی احمد کو گاڑی سمیت تھانہ شفٹ کیا۔
پولیس کے مطابق تحقیقات کے دوران ملزمان نے انکشاف کیا کہ یہ بچہ اویس ولد ہارون ساکن کشمیر نے ایبٹ اباد سے 10 کروڑ روپے تاوان کے عوض مل کر اغوا کیا ہے جس پر ملزمان بالا کی نشاندہی پر اغوا کار اویس کو بھی گرفتار کر لیا ہےجس نے بتلایا کیا اویس اس کے چچا کا بیٹا ہے جس کے والد صاحب فرمیسی کا کام کرتے ہیں پیسوں کی ضرورت ہونے پر اپنے کزن عبداللہ کو اغوا کیا ہے اور 10 کروڑ روپے تاوان مانگا اور بتایا کہ اگر پولیس کو اطلاع دی تو میں بچے کو قتل کر دوں گا۔