ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

التجا مفتی کی قیادت میں سری نگر میں جموں و کشمیر کی ریزرویشن پالیسی کے خلاف احتجاج

سری نگر/پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی رہنما التجا مفتی نے ہفتہ کو سری نگر میں جموں و کشمیر کی ریزرویشن پالیسی کے خلاف احتجاج کی قیادت کی۔ مظاہرین نے اوپن میرٹ امیدواروں کے لیے مواقع کے سکڑتے حصے پر تشویش کا اظہار کیا۔التجا مفتی نے موجودہ ریزرویشن نظام کے جاری جائزے میں زیادہ شفافیت کا مطالبہ کیا اور حکومت پر زور دیا کہ ریزرویشن پالیسی کا جائزہ لینے اور اسے منطقی بنانے کے لیے قائم کابینہ کی ذیلی کمیٹی کی سفارشات اور رپورٹ کو مزید تاخیر کے بغیر عوام کے سامنے لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ طلبہ اور ملازمت کے خواہش مند امیدواروں کو یہ جاننے کا جائز حق حاصل ہے کہ ایسے معاملے پر کیا سفارشات کی گئی ہیں جو براہ راست ان کے تعلیمی اور روزگار کے مواقع کو متاثر کرتا ہے۔مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ رپورٹ عوامی سطح پر شائع کی جائے اور حکومت شفاف اور مشاورتی عمل کے ذریعے اوپن میرٹ امیدواروں کے خدشات کو دور کرے۔
جموں و کشمیر کی نظرثانی شدہ ریزرویشن پالیسی 2024 میں لیفٹیننٹ گورنر کی انتظامیہ کی جانب سے 2002 کے کوٹے کے قواعد میں ترمیم کے بعد ایک اہم متنازع مسئلہ بن گئی ہے۔ اس ترمیم کے تحت پہاڑی برادری کو درج فہرست قبائل (ایس ٹی) زمرے میں 10 فیصد ریزرویشن دیا گیا اور درج فہرست ذاتوں (ایس سی) کی فہرست میں 15 سے زائد ذاتوں کو شامل کیا گیا۔ اس فیصلے کے خلاف احتجاج بھی ہوئے، جن میں 20 دسمبر 2024 کو سری نگر میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی رہائش گاہ کے باہر کیا گیا مظاہرہ بھی شامل تھا۔
بعد میں حکومت نے ریزرویشن پالیسی کو منطقی بنانے کے لیے کابینہ کی ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی۔اس کمیٹی کی رپورٹ لیفٹیننٹ گورنر کے ذریعے وزارت داخلہ کو بھیجی گئی، جہاں سے کچھ سوالات کے ساتھ اسے واپس کر دیا گیا۔ حکومت نے کہا کہ ان سوالات کا جواب دینے کے بعد رپورٹ دوبارہ لیفٹیننٹ گورنر کو بھیج دی گئی۔رواں سال 14 اگست کو جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے خبردار کیا تھا کہ اگر مرکز کے زیر انتظام علاقے میں ریزرویشن نظام میں معمولی تبدیلیوں سے متعلق ان کی کابینہ کی تجویز پر عمل نہیں کیا گیا تو ’ جین۔زیڈ‘ جیسے احتجاج دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں