ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

چھاتروں کی گونج: ’سچن-کپل کی جگہ امت شاہ نے اپنے بیٹے کو پورے ہندوستان کا کرکٹ سونپ دیا، یہی ہے مودی کا سسٹم‘

راہل گاندھی نے اندور میں ’سسٹم‘ پر زوردار حملہ کرتے ہوئے کہا کہ سسٹم میں بیٹھے لوگ اپنے بچوں کو باہر پڑھانے بھیج رہے ہیں اور ہندوستان کے نوجوانوں کو ’اَندھ بھکت‘ بنا رہے ہیں۔ انھوں نے مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ سچن تندولکر اور کپل دیو جیسی کرکٹ کی ہستیوں کے ہوتے ہوئے امت شاہ نے اپنے بیٹے (جئے شاہ) کو پورے ہندوستان کا کرکٹ سونپ دیا ہے۔ یہی مودی کا سسٹم ہے، اور سسٹم نے امت شاہ کے بیٹے کو کرکٹ کا پورا ٹھیکہ دے دیا ہے۔

اندور میں ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کے دوران راہل گاندھی نے برسراقتدار طبقہ پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’’ملک پر سسٹم کا قبضہ ہے، جس کے ٹاپ پر 6 لوگ بیٹھے ہیں۔‘‘ انھوں نے ان 6 لوگوں کی تفصیل بھی بیان کی اور بتایا کہ سب سے پہلے مقام پر نریندر مودی ہیں، جو سسٹم کو چلاتے ہیں۔ دوسرے مقام پر امت شاہ کا ذکر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ وہ ملک کو بھڑکاتے ہیں اور اسٹوڈنٹس کی پٹائی کرواتے ہیں۔ اجیت ڈووال سے متعلق انھوں نے کہا کہ وہ نریندر مودی اور امت شاہ کو ہر طرح کی جانکاری دیتے ہیں۔ چوتھے مقام پر انھوں نے آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت کا نام لیا، جو نظریات کی باتیں کرتے ہیں۔ پانچویں اور چھٹے مقام پر اڈانی-امبانی کا نام لیا، جن کے بارے میں کہا کہ وہ پورے سسٹم کو فائنانس کرتے ہیں۔

راہل گاندھی نے اندور کے ’بھارت جوڑو میدان‘ میں جمع ہزاروں نوجوانوں کی بھیڑ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سسٹم کو اسٹوڈنٹس سے خطرہ ہے، کیونکہ وہ سوال پوچھتا ہے۔ اسٹوڈنٹس پوچھتا ہے کہ امت شاہ کے بیٹے آئی سی سی کے چیئرمین کیسے بن گئے؟ ملک کے پورے بزنس کو 2 لوگوں نے کیسے کیپچر کر لیا؟ عدلیہ سمیت باقی ادارے اپنا کام کیوں نہیں کر رہے؟ الیکشن کمیشن اپنا کام کیوں نہیں کر رہا ہے؟

اندور میں ایک طالبہ نے راہل گاندھی کے سامنے اسٹوڈنٹس کے مسائل سامنے رکھنے کے ساتھ ساتھ سرکاری عہدوں پر تقرری روکے جانے کا سنگین مسئلہ بھی اٹھایا۔ انھوں نے مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت میں سسٹم کی زبردست ناکامی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’راہل گاندھی جی، آپ انصاف کے جنگجو ہیں۔ آپ مدھیہ پردیش کے اسٹوڈنٹس کو بھی انصاف دلائیں۔‘‘

راہل گاندھی نے کہا کہ امتحان کے دوران کچھ امیدواروں سے بھی غلطیاں ہوئی ہیں، لیکن کہیں نہ کہیں ان کا سسٹم پر بھروسہ ختم ہو گیا ہے۔ یہ سن کر تقریب میں موجود کچھ طلبا نے کہا کہ ’’سر، ہم سسٹم سے ہار گئے۔‘‘ طلبا کی بات سننے کے بعد راہل گاندھی کہتے ہیں کہ ’’سسٹم کے اندر بیٹھے کچھ لوگ بدعنوان ہو جاتے ہیں۔ پیسوں کے لالچ میں پیپر لیک کر دیتے ہیں اور لاکھوں طلبا کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ اگر بدعنوان لوگ امتحان سسٹم کا حصہ بنے رہیں گے اور امتحان کا طریقہ ہی بدعنوانی پر مبنی ہوگا تو اس کا نقصان طلبا کو اٹھانا پڑے گا۔

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی ’بھارت جوڑو میدان‘ پہنچ چکے ہیں، اور ہزاروں طلبا کی بھیڑ نے زوردار نعروں کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ راہل گاندھی نے اسٹیج پر پہنچنے کے بعد طلبا اور نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ نے میرا جس طرح استقبال کیا، اس کے لیے شکریہ۔ میں یہاں آ کر بہت خوش ہوں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ہم ہر شہر میں پروگرام کے دوران طلبا سے جڑے ایشوز اور ان کے مستقبل کو لے کر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔ ان میں پیپر لیک، تنظیمی ناکامی، انفراسٹرکچر کی کمی، تعلیم کے بڑھتے خرچ اور نجکاری جیسے ایشوز شامل ہیں۔‘‘

راہل گاندھی نے اندور کے پروگرام کا موضوع ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’اندور میں ہم نے طے کیا ہے کہ آج کا موضوع ’سسٹم بنام اسٹوڈنٹس‘ ہوگا۔ طلبا بتائیں گے کہ سسٹم کیا ہے، وہ طلبا کو کس طرح متاثر کر رہا ہے اور ان کے مستقبل کے سامنے کس طرح کے چیلنجز کھڑے ہو رہے ہیں۔‘‘ راہل گاندھی یہ بھی کہتے ہیں کہ پروگرام میں کئی نوجوان اسٹیج پر پہنچ کر اپنی بات بے باکی کے ساتھ رکھیں گے۔

اندور کے ’بھارت جوڑو میدان‘ میں راہل گاندھی 7 بجے پہنچیں گے، جہاں ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام سے وہ خطاب کرنے والے ہیں۔ ان کی آمد سے گھنٹوں قبل ہزاروں نوجوانوں کی بھیڑ تقریب کے مقام پر پہنچ چکی ہے اور وہ راہل گاندھی کا بے صبری سے انتظار کر رہی ہے۔ ایک ویڈیو سامنے آئی ہے، جو تقریباً 5 بجے کی ہے، جس میں طلبا اور نوجوانوں کی بڑی تعداد ایک بڑے سے پنڈال کے اندر دکھائی دے رہی ہے۔ یہ ہزاروں افراد راہل گاندھی کی ایک جھلک دیکھنے جمع نہیں ہوئے ہیں، بلکہ ملک میں تعلیمی نظام کی خراب صورت حال کو بہتر بنانے کی امید لے کر پہنچے ہیں۔

کچھ ہی دیر میں راہل گاندھی اندور میں ’چھاتروں کی گونج‘ سے خطاب کرنے والے ہیں۔ اس پروگرام کو لے کر طلبا اور نوجوانوں میں زبردست جوش دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ایک یو پی ایس سی امیدوار تشار گپتا نے راہل گاندھی کی اس مہم سے متعلق خوشی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’نریندر مودی نے ہر سال 2 کروڑ ملازمت دینے کا وعدہ کیا، لیکن اگنی ویر جیسا منصوبہ لے آئے۔ زبردست مہنگائی کی مار ہم جیسے طلبا پر بھی پڑ رہی ہے، جو گھروں سے دور رہتے ہیں۔ آج راہل گاندھی جی ہماری امید ہیں، جو لگاتار ہماری آواز اٹھا رہے ہیں۔‘‘

اندور کا ’بھارت جوڑو میدان‘ راہل گاندھی کا استقبال کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ اندور پہنچ چکے ہیں اور آج 7 بجے وہ ’بھارت جوڑو میدان‘ پہنچیں گے، جہاں طلبا سے براہ راست تبادلۂ خیال کریں گے۔ ’چھاتروں کی گونج‘ نام سے منعقد اس تقریب میں تعلیمی نظام کے بدتر ہو چکے حالات کو بہتر بنانے پر گفتگو ہوگی اور طلبا کے مختلف مسائل سے بھی آشنائی حاصل کی جائے گی۔

کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی اندور پہنچ چکے ہیں، جہاں انھیں آج شام ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام سے خطاب کرنا ہے۔ اندور ایئرپورٹ پہنچنے پر کانگریس کے سینئر لیڈران و کارکنان نے راہل گاندھی کا شاندار استقبال کیا۔ اب سبھی کو انتظار ہے کہ وہ تقریب کے مقام پر پہنچیں اور طلبا سے بات چیت شروع ہو تاکہ پورا ملک ان کے مسائل جان سکے۔ اس پروگرام کو لے کر طلبا اور نوجوانوں میں زبردست جوش دیکھنے کو مل رہا ہے۔

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی طلبا کے مسائل اور تعلیمی نظام میں بہتری کے لیے ملک کی مختلف ریاستوں میں ’چھاتروں کی گونج‘ عنوان سے پروگرام کا انعقاد کر رہے ہیں۔ وہ قبل میں کوٹا، دہرادون، پریاگ راج اور پونے کی تقریب میں طلبا سے براہ راست گفتگو کر چکے ہیں اور کئی اہم مسائل ملک کے سامنے لائے گئے۔ خاص طور سے 22 اگست کو پونے میں منعقد ہونے والا پروگرام طالبات پر مرکوز تھا، جس میں طالبات نے کھل کر اپنی بات راہل گاندھی اور ملک کے سامنے رکھی۔ مدھیہ پردیش کے اندور میں آج منعقد ہونے والا پروگرام ’چھاتروں کی گونج‘ تعلیمی نظام میں بہتری کے لیے چلائی جا رہی اس مہم کا پانچواں ایڈیشن ہوگا۔ اس تقریب کے پیش نظر اندور میں طلبا میں زبردست جوش دیکھنے کو مل رہا ہے۔ کانگریس بھی لگاتار سوشل میڈیا پر پوسٹ جاری کر زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس مہم سے جڑنے کی اپیل کر رہی ہے۔ ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا گیا ہے کہ ’’اب یہ آواز دبنے اور تھمنے والی نہیں ہے۔ جَن نایک راہل گاندھی کے ساتھ ملک کے طلبا نظامِ تعلیمی کو بدلنے کے لیے ہُنکار بھر رہے ہیں۔ ساتھ آئیے، اس بدلاؤ کے میں ساتھ نبھائیے۔‘‘

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں