ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

انتخابی فہرستوں سے چھیڑ چھاڑ جمہوریت کیلئے خطرہ: محبوبہ مفتی

سری نگر/پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے انتخابی فہرستوں میں مبینہ تبدیلیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ووٹر لسٹوں میں حکمران جماعت بی جے پی کی مرضی کے مطابق ناموں کا اندراج اور اخراج جاری رہا تو ایک وقت ایسا آسکتا ہے جب بھارت ’’بنانہ ریپبلک‘‘ جیسا دکھائی دینے لگے گا اور ملک میں جمہوریت باقی نہیں رہے گی۔
محبوبہ مفتی نے انتخابی فہرستوں سے متعلق الیکشن کمیشن کے اندر مبینہ اختلافِ رائے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دو الیکشن کمشنروں کی جانب سے کمیشن کے بعض فیصلوں اور مؤقف پر اعتراضات اٹھانا جمہوریت کے لیے اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’آج وہ ہندوستانی جمہوریت کی بنیاد، یعنی انتخابی عمل، کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کی نشاندہی دو الیکشن کمشنروں نے بھی کی ہے۔‘‘
محبوبہ مفتی نے کہا کہ بھارت اور پاکستان بظاہر ایک دوسرے سے مقابلہ کر رہے ہیں کہ کون اپنے عوام اور اپنے اداروں کو زیادہ نقصان پہنچا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دیتا ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی بیرونِ ملک ’’جمہوریت کی ماں‘‘ جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں، لیکن اگر انتخابی فہرستوں سے ناموں کا اخراج اور نئے ناموں کا اندراج بی جے پی کی مرضی کے مطابق جاری رہا تو ملک کی جمہوری شناخت کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے پاکستان کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہنوں کی گرفتاری اور احتجاج کرنے والی خواتین کے ساتھ مبینہ کارروائیوں پر بھی سوال اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا بھر میں امن کے داعی اور ثالث کے طور پر اپنی شناخت پیش کرتا ہے، لیکن ملک کے اندر پرامن اختلافِ رائے کو سختی سے دبایا جا رہا ہے۔
محبوبہ مفتی کے مطابق بھارت میں اس وقت بھی یہ ایک مثبت پہلو ہے کہ ایسے سرکاری عہدیدار موجود ہیں جو اقتدار میں موجود لوگوں سے سوال کرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ دو الیکشن کمشنروں کے نام فی الحال ظاہر نہیں کرنا چاہتیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ ان کے خلاف انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ED) یا انکم ٹیکس کے چھاپے پڑ سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ انتخابی فہرستوں سے بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کی اطلاعات کے تناظر میں الیکشن کمیشن کے عہدیداروں کی آزادی اور دیانت داری مزید اہم ہو جاتی ہے۔محبوبہ مفتی نے خبردار کیا کہ اگر انتخابی فہرستوں میں اسی طرح تبدیلیاں جاری رہیں تو ’’ایک وقت آئے گا جب ہمارا ملک بنانا ریپبلک جیسا دکھائی دے گا۔ وہاں جمہوریت نہیں رہے گی۔‘‘

 

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں