سری نگر/جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کے ریاستی درجے کی بحالی کا مطالبہ کسی بھی صورت ملک دشمن اقدام نہیں ہے۔ریاستی درجے کی بحالی سے متعلق قرارداد پر اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے بی جے پی کو چیلنج دیا کہ وہ قرارداد میں استعمال ہونے والا ایک بھی ’ملک دشمن‘ لفظ دکھائے۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’مجھے قرارداد میں استعمال کیا گیا ایک بھی ملک دشمن لفظ دکھائیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ مکمل ریاستی درجہ بحال کرنے سے متعلق قرارداد پہلے ہی ایوان سے منظور کی گئی خودمختاری کی قرارداد سے الگ ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر بی جے پی پہلے سے منظور شدہ قراردادوں کو کمزور کرنا چاہتی ہے تو وہ اپنی قرارداد ایوان میں پیش کرے۔عمر عبداللہ نے بی جے پی پر ایوان کے اندر ڈرامہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی نہیں چاہتی کہ عوام حقیقت دیکھیں۔انہوں نے کہا، ’’قائد حزب اختلاف اور بی جے پی صرف ریاستی درجے کی بحالی کی مخالفت کر رہے ہیں۔ جموں و کشمیر کے عوام نے آج دیکھا کہ بی جے پی کے یہ 29 ارکان اسمبلی ریاستی درجے کے خلاف ہیں۔‘‘
وزیراعلیٰ نے کہا کہ قرارداد کا مقصد صرف مرکز سے جموں و کشمیر کا مکمل ریاستی درجہ بحال کرنے کی اپیل کرنا تھا اور بی جے پی کو اس پر بحث کی اجازت دینی چاہیے تھی۔انہوں نے کہا، ’’آج بی جے پی بے نقاب ہوگئی۔ بہتر ہوتا کہ قرارداد پر بحث ہونے دی جاتی۔‘‘
کانگریس کے قرارداد سے متعلق موقف پر عمر عبداللہ نے کہا کہ قرارداد میں کچھ بھی غیر آئینی نہیں ہے۔انہوں نے کہا، ’’اس میں کوئی غلط بات نہیں ہے۔ یہ پہلے منظور کی گئی قراردادوں کے علاوہ ہے۔ یہ الگ قرارداد ہے اور اس میں کچھ بھی غیر آئینی نہیں ہے۔‘‘