ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

سرکار سرمایہ دارانہ جارحیت کا رویہ ترک کرے: غلام حسن میر

عظمیٰ وب ڈیسک
سرینگر/اپنی پارٹی کے سینئر نائب صدر اور سابق کابینہ وزیر غلام حسن میر نے معاشرے کے کمزور اور پسماندہ طبقات کے تئیں حکومت کے ’’جارحانہ رویے‘‘ پر شدید تنقید کرتے ہوئے بجلی کے بقایاجات کی عدم ادائیگی پر کنکشن اچانک منقطع کرنے اور مکمل بقایا رقم یکمشت ادا کیے بغیر بجلی بحال نہ کرنے کی پالیسی کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایک بیان میں غلام حسن میر نے کہا کہ بجلی کے بقایاجات کی وصولی نہ صرف جائز بلکہ ضروری ہے، تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ غریب اور معاشی طور پر کمزور لوگوں کو مشکلات میں دھکیل دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اچانک بجلی منقطع کرکے اور مکمل بقایا رقم یکمشت ادا کرنے تک بجلی بحال نہ کرکے حکومت ان لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا، ’’یہ پالیسی عوام کے تئیں حکومت کے سخت گیر سرمایہ دارانہ رویے کی عکاسی کرتی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ حکومت انہی لوگوں کے ساتھ ایسا بے رحمانہ سلوک روا رکھ رہی ہے جنہوں نے اپنے ووٹ سے اسے منتخب کیا اور یہ توقع کی کہ وہ ان کی فلاح و بہبود اور مشکلات کے ازالے کے لیے کام کرے گی۔‘‘

میر نے کہا کہ حکومت کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ بجلی ایک بنیادی اور ناگزیر سہولت ہے، کوئی عیش و عشرت نہیں کہ مالی مشکلات سے دوچار خاندانوں کو فوری ادائیگی پر مجبور کرنے کے لیے اس سے محروم کردیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ بجلی کی اچانک بندش کے سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ امتحانات کی تیاری میں مصروف طلبہ متاثر ہوتے ہیں، جبکہ بعض خاندانوں میں ایسے مریض بھی ہوتے ہیں جو بجلی سے چلنے والے آکسیجن کنسنٹریٹرز پر انحصار کرتے ہیں۔ ایسے خاندانوں کی پریشانی اور مشکلات کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے جن کی بجلی اچانک منقطع کردی جاتی ہے۔

غلام حسن میر نے کہا کہ جو صارفین بجلی کے بل ادا کرنے کی استطاعت رکھنے کے باوجود جان بوجھ کر ادائیگی سے گریز کرتے ہیں، ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ تاہم جو صارفین واقعی مالی مشکلات کے باعث اپنے بقایاجات یکمشت ادا کرنے سے قاصر ہیں، انہیں قسطوں میں ادائیگی کی سہولت فراہم کی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا، ’’حکومت کو حقیقی مالی مشکلات سے دوچار لوگوں کے تئیں ہمدردی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ آخرکار یہ ایک فلاحی ریاست ہے اور حکومت عوام کی فلاح و بہبود کے لیے منتخب ہوتی ہے، نہ کہ لوگوں کے ساتھ جارحانہ رویہ اختیار کرنے کے لیے۔۔‘‘

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں