کیرلم میں ریاستی کابینہ نے بزرگ شہریوں کی دیکھ بھال اور تحفظ کے لیے ایک نئے بل کو منظوری دی ہے۔ کیرلم کے وزیر اعلیٰ وی ڈی ستیسن نے کہا کہ بزرگ شہریوں کی دیکھ بھال اور تحفظ کی قانونی ضمانت فراہم کرانے کے مقصد سے لائے جانے والے بل کو منظوری دے دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا ہدف 12 اکتوبر سے شروع ہونے والے اسمبلی اجلاس کے دوران اس بل کو منظور کرانا ہے۔ وزیر اعلیٰ ستیسن نے کابینہ کی میٹنگ کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ اس نئے بل کو اسمبلی میں پیش کرنے سے قبل عوام کے سامنے عام کر دیا جائے گا، تاکہ لوگ اسے دیکھیں اور سمجھ سکیں۔ انہوں نے اس بل کو ایک انتہائی انقلابی، اہم اور نئی تبدیلی لانے والا قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کیرلم ہندوستان کی پہلی ریاست ہے، جہاں بزرگوں کے لیے الگ محکمہ قائم کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مجوزہ قانون اپنی نوعیت کا دنیا کا پہلا قانون ہوگا، جس کے تحت قانون سازی کی دفعات کے ذریعے بزرگوں کی دیکھ بھال کی قانونی ضمانت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر کی ریاستیں کیرلم سے اس ماڈل کے بارے میں معلومات طلب کر رہی ہیں۔ اسمبلی سے منظوری ملنے کے بعد یہ قانون تمام ریاستوں کے لیے ایک مثالی ماڈل کے طور پر کام کرے گا۔ پیر سے شروع ہونے والے اسمبلی اجلاس سے قبل وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مجوزہ بل کے تحت اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی جائے گی کہ بزرگ شہریوں کی ضروریات پر نظر رکھی جائے۔ اس میں یہ توجہ دینا بھی لازمی ہوگا کہ بزرگوں نے ناشتہ، دوپہر اور رات کا کھانا کھایا ہے یا نہیں اور کیا انہیں خصوصی دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔
ستیسن نے کہا کہ اسمبلی کا اجلاس 12 اکتوبر سے شروع ہوگا۔ مجھے امید ہے کہ ہم اسی ماہ اس بل کو منظور کروا سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں آبادی کے ڈھانچے میں ہونے والی بڑی تبدیلیوں اور اوسط عمر میں مسلسل اضافے کے پیش نظر یہ پہل ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں اس مسئلے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ پہل صرف روایتی فلاحی پروگراموں تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ اس میں سلور اکانومی یعنی بزرگوں کی ضروریات پوری کرنے والی خدمات کے تصور کو اپناتے ہوئے بزرگ شہریوں کو زیادہ فعال، تخلیقی اور کارآمد بنانے کی کوشش کی جائے گی۔