ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ترکی کا آئندہ ماہ لیبیا فوج بھیجنے کا اعلان

انقرہ/ طرابلس: تُرک صدر رجب طیب اردوان اپنی جماعت انصاف وترقی پارٹی کے ارکان سے خطاب کررہے ہیں‘ جنگ کے باعث شہری ہجرت کررہے ہیں

انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) تُرکی نے لیبیا میں اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت کی مدد کے لیے اپنی فوج آیندہ ماہ تک بھیجنے کا اعلان کردیا۔تُرک صدر رجب طیب اردوان نے انقرہ میں اپنی جماعت انصاف اور ترقی پارٹی کے جلسے سے خطاب میں کہا کہ وہ لیبیا میں تُرک فوج کی تعیناتی کے لیے جلد از جلد پارلیمان میں ایک قرارداد پیش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ قرارداد 7 جنوری کو پیش کر سکتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تُرک فوجیوں کی تعیناتی طرابلس میں موجود بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی درخواست پر کی جا رہی ہے۔ اگر اللہ نے چاہا تو ہم 8یا 9 جنوری کو اس دعوت نامے کا جواب دے دیں گے۔ اردوان کا کہنا تھا کہ ہم لیبیا کی حکومت کو حفتر ملیشیا کے خلاف ہر طرح کی مدد فراہم کریں گے۔ تُرک صدر نے کہا کہ ترکی جغرافیائی طور پر ایک تہذیبی گہوارے میں واقع ہے۔ یہ جغرافیہ پھیلا ہوا ہے۔ بحیرۂ روم اور شمالی افریقا بھی اسی کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شمالی افریقا کے پورے رقبے کے ساتھ ساتھ لیبیا میں بھی خود مختار دوست آباد ہیں۔ موجودہ لیبیائی صدر کے عزیز و اقارب ترکی میں مقیم ہیں۔ ہم نے باغی جنرل کی جانب سے شروع کردہ حملوں کی شروع سے ہی مخالفت کی ہے۔ ہم نے طرابلس انتظامیہ کو ہر طرح کی امداد فراہم کی ہے اور کرتے رہیں گے۔ لیبیا سمندری حقوق کی رو سے ہمارا ایک ہمسایہ ملک بھی ہے۔ خیال رہے کہ لیبیا میں وزیراعظم فائز سراج کے زیر قیادت قومی حکومت کی فوج اور باغی جنرل خلیفہ حفتر کی ملیشیا کے درمیان جنگ ہورہی ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں