ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

شام میں 33 ترک فوجی ہلاک ،روس سے کشیدگی

شام/ ترکی: صوبہ ادلب میں بم باری کا نشانہ بننے والی چوکی پر تُرک فوجی اور مقامی مزاحمت کار جمع ہیں‘ کمک لانے والا قافلہ آگے بڑھ رہا ہے‘ وزیر دفاع خلوصی اکار آپریشن کا جائزہ لے رہے ہیں‘ تارکین وطن کے گروہ زمینی اور بحری راستوں سے یورپی ممالک کی جانب بڑھ رہے ہیں

دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) شام میں ایک تازہ حملے کے دوران 33 تُرک فوجی مارے گئے ہیں۔ خبررساں اداروں کے مطابق جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب جنگی طیاروں نے ادلب میں سرحد سے تھوڑی ہی دور ایک مقام پر تُرک فوجیوں کو نشانہ بنایا۔ اسدی فضائیہ نے جس علاقے میں یہ حملہ کیا، اسے ترکی اور روس کے درمیان طے پائے معاہدے میں ’’تشدد سے پاک‘‘ قرار دیا گیا تھا۔ اس حملے میں 33 تُرک فوجی جاں بحق اور 32 زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو واپس ترکی پہنچایا گیا ہے۔ ترکی نے جوابی کارروائی میں اسدی فوج کے درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا۔ ترکی کا دعویٰ ہے کہ اس نے اسد حکومت کے 200 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا اور ان کارروائیوں میں 309 اسدی فوجی ہلاک ہوگئے۔ اس ہلاکت خیز حملے کے بعد صدر رجب طیب اردوان نے انقرہ میں ہنگامی اجلاس کی صدارت کی۔ جب کہ روسی وزارت دفاع نے اس حملے پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ تُرک فوجی ادلب میں شامی مزاحمت کاروں کے درمیان موجود تھے، جس کے باعث وہ بمباری کی لپیٹ میں آئے۔ روسی وزارت دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ ترکی نے روس کو ادلب میں اپنے فوجیوں کی موجودگی سے آگاہ نہیں کیا تھا۔ ساتھ ہی روس نے کروز میزائلوں سے لیس 2 جنگی جہاز بحیرۂ روم میں شامی ساحلپر بھیج دیے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ یہ جنگی جہاز بحیرہ اسود سے روانہ کیے گئے ہیں۔ اس کشیدگی کے تناظر میں تُرک صدر اردوان اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ٹیلی فون پر گفتگو بھی کی ہے، جس میں ادلب میں دونوں ممالک کی فوجوں کے درمیان بہتر رابطہ کاری کی ضرورت پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے حالات کو معمول پر لانے کے لیے اضافی اقدامات پر اتفاق کیا۔ ساتھ ہی جلد بالمشافہ ملاقات میں اس بحران پر غور کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ اسی تناظر میں جمعہ کے روز ترکی کی درخواست پر نیٹو کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا۔ اس اجلاس میں مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے رکن ممالک کے مندوبین شمال مغربی شام میں شامی فورسز کی فضائی کارروائی میں 33 تُرک فوجیوں کی ہلاکت کے بعد کی صورت حال کا جائزہ لیا۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل ژینس اسٹولٹن برگ نے ایک بیان میں کہا کہ نیٹو ممالک کے سفیروں کا اجلاس نیٹو معاہدے کے آرٹیکل 6 کے تحت طلب کیا گیا۔ نیٹو معاہدے کی اس شق کے مطابق کوئی بھی رکن ملک اپنی جغرافیائی حدود اور سلامتی کو لاحق خطرات کے تناظر میں دیگر رکن ریاستوں کی مشاورت اور مدد طلب کر سکتا ہے۔ ژینس اسٹولٹن برگ نے ادلب میں اس کارروائی کی مذمت کی ہے اور فریقین پر زور دیا کہ وہ کشیدگی کے خاتمے کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتِ حال انتہائی خطرناک ہے اور کسی بھی قسم کی مزید کارروائی خطے میں نئے انسانی المیے کو جنم دے سکتی ہے۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ترکی ہمارا اہم اتحادی ہے، جسے فضائی تعاون ملنا جاری رہے گا۔ جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس واقعے کے بعد تُرک صدر سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔ انہوں نے ادلب میں تُرک فوجیوں کی ہلاکت پر گہرے افسوس کا اظہار کیا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے شام میں فوجی کارروائی کی وجہ سے شہریوں کو لاحق شدید خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے فوراً جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں