کابل (صباح نیوز)افغانستان کے صدر اشرف غنی نے امریکا اور افغان طالبان کے درمیان ہونے والے تاریخی معاہدے کے حوالے سے کہا ہے کہ تمام فریقین اس معاہدے کی پاسداری کریں گے،جو مذاکرات سے حاصل ہوگا، پھر قوم پارلیمنٹ، لویہ جرگہ یا ریفرنڈم کے ذریعے فیصلہ کرے گی ،افغانستان کا ہر شہری امن عمل کا اسٹیک ہولڈر ہے ، اگلے 7دنوں میں فیصلہ کن مذاکرات کریں گے تاکہ متوازن اتھارٹی قائم کی جائے۔کابل میں چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ اور دیگر افغان حکام کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے افغان صدر اشرف غنی نے کہا کہ نائن الیون کے سا نحے سے ہم یکجا ہوئے اور مشترکہ قربانیوں سے باہمی طور پر منسلک ہوئے۔اشرف غنی نے کہا کہ ہم افغان حکومت اور عالمی برادری، طالبان کے ساتھ تنازع کا حل چاہتے ہیں، ہم امن قائم کرنے کے لیے سیاسی صلاحیت رکھتے ہیں کیونکہ ہم نے مقابلہ کیا ہے اور ہماری معیشت میں صلاحیت ہے، اسی طرح ہماری ریاست کے پاس بھی صلاحیت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اتفاق رائے کے لیے جرگہ اور دیگر راستے اپنائے گئے اور ہم ایک اسٹیک ہولڈر سوسائٹی بن گئے، ہماری نتیجہ خیز گفتگو باہمی رابطوں، آئین، آزادی اور قومی شناخت میں بدل گئی۔افغان صدر نے کہا کہ 2018ء کی تاریخی جنگ بندی کے دوران ہمارے معاشرے نے شاندار مستقبل کی جانب عملی مظاہرہ کیا اور ہزاروں طالبان جنگجوئوں کے ساتھ بغیر کسی ناخوش گوار واقعے کے مذاکرات ہوئے۔اشرف غنی نے کہا کہ ہم پرعزم ہیں کہ امن پر قومی اتفاق رائے ہوگا-اشرف غنی نے کہا کہ پاکستان اور دیگر برادر ملکوں کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جس کے لیے افغانستان کے عوام نے بے پناہ بڑی قربانیاں دی ہیں۔افغان صدر کا کہنا تھا کہ صدر کو آئین کی جانب سے دیے گئے اختیارات کے دائرے میں کام کرنا ہے اور ہمیں امن کے لیے اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت کو سمجھنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ معاہدہ افغان طالبان اور امریکی حکام کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں ہونے جارہا ہے اور تمام فریقین امن معاہدے کی پاسداری کریں گے جو مذاکرات سے حاصل ہوگا، پھر قوم پارلیمنٹ، لویہ جرگہ یا ریفرنڈنم کے ذریعے فیصلہ کرے گی۔امن کے قیام کے لیے ہونے والے معاہدے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کا ہر شہری امن عمل کا اسٹیک ہولڈر ہے اور ہم اگلے 7دنوں میں فیصلہ کن مذاکرات کریں گے تاکہ متوازن اتھارٹی قائم کی جائے۔