کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ شہر میں مسلح ڈکیتی،چوری،لو ٹ مارکی وارداتوں اور اسٹریٹ کرائمز میں مسلسل تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ شاپنگ سینٹرز اور گلی محلے میں خواتین سے پرس و زیورات اور شہریوں سے موبائل فون ،موٹر سائیکل چھیننے کی وارداتیں روزانہ ہو رہی ہیں اور اسٹریٹ کرائمز میں اضافہ حکومت ،پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی واضح نا اہلی اورناکامی ہے۔کراچی میں پولیس کی جانب سے اسٹریٹ کرائمز کے خلاف خصوصی مہم کا اعلان تو ہوتا رہتا ہے تاہم صورتحال میں کوئی واضح بہتری نظر نہیں آرہی۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کراچی کے عوام پہلے ہی پانی، بجلی اورٹرانسپورٹ کے ناقص نظام کی وجہ سے شدید ذہنی و جسمانی اذیت کا شکار ہیں اور حکومت کی جانب سے مسائل کے حل کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔ماضی میں شہر میں قانون نافذ کر نے والے اداروں کی کارروائیوں کے باعث حالات میں کچھ بہتری پیدا ہو ئی تھی مگر کچھ عرصے سے پھر جرائم پیشہ عناصر اور رہزن گروہ بڑے پیمانے پر چھینا جھپٹی اور اسٹریٹ کرائمز کی وارداتیں بلا خوف و خطر کررہے ہیں جس سے عام شہری عدم تحفظ کا شکار اور کاروباری طبقہ پریشان ہے۔ حد تو یہ ہے کہ چھوٹے دکانداروں کو بھی لوٹا جارہا ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شہریوں کا کوئی پُرسان ِ حال نہیںاس صورتحال کے باعث عوام کے اندر شدید بے چینی و اضطراب اورخوف وہراس پھیل رہا ہے۔ضروری ہے کہ اس صورتحال کا سختی سے نوٹس لیا جائے۔انہوں نے کہا کہ کراچی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نااہلی ہے کہ جرائم پیشہ افراد اگر پکڑے جاتے ہیں تو کیس اتنے کمزور بنائے جاتے ہیں کہ ملزم سزا سے بچ جاتے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمے داری ہے کراچی کے شہریوں کو ہر قسم کا تحفظ فراہم کریںاور اسٹریٹ کرائمز میں ملوث عناصر کے خلاف فوری عملی اقدامات کریں۔