ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

شکیب الحسن کا ڈومیسٹک ٹی20 لیگ میں امپائر کے فیصلے پر ناراضگی کا اظہار

بنگلہ دیش کے مقامی ٹی20 ٹورنامنٹ میں اسٹار آل راؤنڈر شکیب الحسن کرکٹ کے اصولوں کے انحراف کرتے ہوئے تمام قوانین بھلا بیٹھے اور امپائر کے فیصلے پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے وکٹیں اکھاڑ کر پھینک دیں۔

ڈھاکا پریمیئر ڈویژن ٹی20 کرکٹ لیگ میں محمڈن اسپورٹنگ کلب اور اباہانی لمیٹیڈ کے درمیان میچ کھیلا گیا جس میں شکیب نے ایک نہیں بلکہ دو مرتبہ خراب رویے کا مظاہرہ کیا اور کرکٹ قوانین کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں۔

اباہانی لمیٹیڈ کے کپتان نے 27 گیندوں پر 37 رنز کی اننگز کھیلی جس کی بدولت ان کی ٹیم 6 وکٹوں کے نقصان پر 145 رنز ہی بنا سکی۔

ہدف کے تعاقب میں محمڈن کلب 21 رنز پر 3 وکٹیں گنوا چکا تھا اور اننگز کے پانچویں اوور کی پانچویں گیند پر شکیب نے مشفیق الرحیم کے خلاف ایل بی ڈبلیو کی اپیل کی۔

امپائر نے وکٹ کیپر بلے باز کو ناٹ آؤٹ قرار دیا لیکن شکیب نے یہ فیصلہ تسلیم نہ کیا اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے لات مار کر وکٹیں گرا دیں اور امپائر سے آؤٹ نہ دینے پر بحث کرتے رہے۔

ابھی یہ معاملہ رفع دفع بھی نہیں ہوا تھا کہ پاور پلے کے دوران ہی ایک مرتبہ پھر امپائر کے فیصلے پر شکیب اپنے جذبات قابو میں رکھ سکے اور آ کر وکٹیں اکھاڑ کر پھینک دیں۔

شکیب کو اس رویے کی وجہ سے کرکٹ حلقوں شائقین کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

اب دیکھنا ہو گا کہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ ڈومیسٹک ٹی20 لیگ میں اس خراب رویے پر شکیب الحسن کے خلاف کیا کارروائی کی جاتی ہے۔

بعدازاں مایہ ناز آل راؤنڈر نے فیس بک پوسٹ کے ذریعے شائقین سے اپنے رویے کی معافی مانگ لی۔

واضح رہے کہ ون ڈے کرکٹ کے سرفہرست آل راؤنڈر نے اکتوبر 2019 میں آئی سی سی کے اینٹی کرپشن قوانین کی خلاف ورزی کی تھی اور کرپٹ عناصر کی جانب سے رابطہ کیے جانے کے باوجود رپورٹ نہیں کیا تھا۔

قوانین کی خلاف ورزی پر ان پر 2 سال کی پابندی عائد کی گئی تھی جس میں سے ایک سال کی سزا ختم کرتے ہوئے بقیہ ایک سال کے لیے کھیل سے معطل کردیا گیا تھا۔

ایک سال کی پابندی کے خاتمے کے بعد شکیب الحسن نے کرکٹ میں شاندار انداز میں واپسی کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو فتوحات سے ہمکنار کرایا۔

منبع: ڈان نیوز

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں