کراچی:سندھ بھرکے اضلاع میں کیمبرج سسٹم انگلش میڈیم ہائراور سیکنڈری اسکولوں کی تعمیر میں مبینہ خورد برد،7 ارب روپے میں اسکولوں کی تعمیر اور مہنگے داموں فرنیچر کی خریداری پر نیب نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
نیب کے عدنان حفیظ عباسی نے محکمہ تعلیم میں7 ارب روپے سے زائد کی کرپشن پر تحقیقات شروع کر دیں۔ سندھ بھر کے مختلف اضلاع میں 25کیمبرج سسٹم انگلش میڈیم ہائر اینڈ سیکنڈری اسکولوں کی تعمیر اور مہنگے داموں فرنیچر کی خریداری کی چھان بین کی گئی۔
مذکورہ افسران پر جامشورو کی سندھ یونیورسٹی ہائوسنگ سوسائٹی اور کوٹری سائٹ لیبر کالونی میں 28کروڑ روپے اور سال 2013 میں سندھ بھر کے 21اضلاع سکھر، لاڑکانہ، ٹھٹھہ، بدین، سجاول، کوٹری، مٹھی، عمر کوٹ، میرپور خاص، ٹنڈو الہیار، ٹنڈو محمد خان، دادو، مٹیاری، کندھ کوٹ، قمبر شہداد کوٹ، جیکب آباد، شہید بے نظیر آباد، کراچی، حیدرآباد اور جامشورو میں پیکج اے بی سی کے تحت 25 انگلش میڈیم کیمبرج سسٹم اسکول نرسری ٹو زیرو لیول اور ہائی اسکول تعمیر کیے گئے۔
اسکول 6 ماہ میں تعمیر ہونے تھے مگر 7 سال میں پایہ تکمیل کو پہنچے ۔3ارب 7 لاکھ 42 ہزار 548روپے تعمیرات پر جبکہ 4 ارب روپے سے زائد رقم 2016-17کے درمیان اسکولوں کے لیے مہنگے داموں فرنیچر سمیت دیگر سامان کی خریداری کی گئی جبکہ 3 سال سے تعمیر شدہ اسکولوں میں اربوں روپے کا فرنیچر پڑے پڑے خراب ہو رہا ہے مگر اب تک اسٹاف بھرتی نہیں کیا جا سکا۔
اس معاملے پر نیب نے سابق سیکرٹری تعلیم ڈاکٹر فضل اللہ پیچوہو سمیت مذکورہ بالا افسران کو طلب کرتے ہوئے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور ان افسران کے بیانات قلمبند کیے جا رہے ہیں۔
