ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

اپوزیشن میں تحریک چلانے کا دم نہیں صرف سیاست میں زندہ رہنے کیلئے متحرک ہے

اسلام آباد (میاں منیر احمد) ملک کے سیاسی، صحافتی حلقوں، دانشوروں اور تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ حکومت کے خلاف کسی بھی عوامی تحریک کے لیے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں کوئی اتفاق رائے پیدا نہیں ہوا ہے، مسلم لیگ (ن) کے عوامی شوز فلاپ ہوئے ہیں اور مہنگائی ایک عارضی فیز ہے‘ مہنگائی حکومت کی ناکامی نہیں بلکہ عالمی معاشی حالات کی وجہ سے ہے‘ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما انجینئر افتخار چودھری نے جسارت کے سوال کہ کیا پیپلز پارٹی کی طرح مسلم لیگ (ن) بھی حکومت کے خلاف لانگ مارچ سے گریزاں ہے؟ کہا کہ ان کا بھی یہی خیال ہے‘ مسلم لیگ (ن) نے پشاور میں مہنگائی کے خلاف فلاپ شو کیا ہے‘ اسے علم ہے کہ لوگ مہنگائی سے تنگ ضرور ہیں مگر پاکستانی عوام ان کے مظالم کو نہیں بھولے‘ عمران خان کے بارے میں اگر کوئی ناخوش ہے بھی تو اسے علم ہے کہ وہ قوم کے لیے اپنی بہترین کوششیں کر رہے ہیں۔ مہنگائی کی وجہ عمران خان نہیں بلکہ عالمی معاشی حالات ہیں انہوں نے کہا کہ عالمی حالات سدھر نے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی حالات سنبھل جائیں گے ۔ سابق وفاقی وزیر اور سیاسی رہنما جاوید ہاشمی نے کہا کہ ملک کے سیاسی حالات بہت خراب ہیں‘ اپوزیشن کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کرنے کے لیے آگے آئے اور عوام کی رہنمائی کرے‘ اس وقت ہمیں اندرون ملک اور بیرون ملک نہایت سنگین مسائل کا سامنا ہے اور حکومت میں اہلیت نہیں کہ وہ مسائل حل کرسکے۔ سابق چیئرمین سینیٹ نیئر حسین بخاری نے کہا کہ پیپلز پارٹی اپنی حکمت عملی کے ساتھ کام کرتی ہے اور ہم عوام کی بہترین رہنمائی کے لیے سیاسی میدان میں موجود ہیں‘ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر دونوں جگہ ہم عوام کی رہنمائی کر رہے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ ملک کن مسائل کا شکار ہے اور اس کا حل کیا ہے‘ ہم چاہتے ہیں کہ ملک میں حقیقی جمہوریت آئے۔ اسلام آباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹریز کے سینئر رہنما مدثر فیاض چودھری نے کہا کہ جی بظاہر تو ایسے ہی نظر آتا ہے‘ اتنے برے حالات میں بھی کسی قسم کی کوئی تحریک کسی بھی پارٹی کی طرف سے شروع نہ کرنا نجانے کون سی مصلحت ہے۔ تجزیہ کار معراج الحق صدیقی نے کہا کہ پی ڈی ایم میں صرف جے یو آئی ہی حکومت کے خلاف عوامی تحریک چلانے اور لانگ مارچ کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے‘ مسلم لیگ (ن) ابھی تک اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کر پائی ہے جب کہ پیپلزپارٹی مصلحت کا شکار ہے اور وہ حالات کا رخ دیکھ رہی ہے اس کے بعد ہی کوئی فیصلہ کرے گی‘ اپوزیشن جماعتوں میں صرف جے یو آئی ایک ایسی جماعت ہے جو تحریک انصاف کے خلاف احتجاجی مہم میں دلچسپی رکھتی ہے۔ تجزیہ کار جاوید ملک نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں میں حکومت کے خلاف کسی تحریک چلانے کا دم نہیں ہے‘ اپوزیشن جماعتیں صرف سیاست میں زندہ رہنے کے لیے متحرک ہیں‘ ان میں حکومت کے خلاف کسی بڑی تحریک چلانے کی ہمت اور جان نہیں ہے اور نہ اس وقت عوام میں ایسی کوئی امنگ دیکھی جا رہی ہے۔ فیڈریشن آف چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے ممبر جنرل باڈی طاہر آرائیں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت اپنے5 سال پورے کرے گی اور اپوزیشن صرف دھمکیاں دیتی رہے گی اور یوں ہی5 سال مکمل ہوجائیں گے پارلیمنٹ کی مدت پوری کرنا تمام سیاسی جماعتوں کی مجبوری ہے مگر وہ یہ بات عوام میں نہیں کہہ سکتی ہیں۔ مسلم لیگ (ض) کے پنجاب کے صدر ساجد حسین انجم نے کہا کہ فی الحال واضح نہیںکہ پی ٹی آئی کے ساتھ کس کو جوڑا جائے گا‘ آصف علی زرداری پی ڈی ایم کا مشروط ساتھ دینے کا وعدہ تو کر رہے ہیں مگر مولانا فضل الرحمٰن ان کے ماضی کے رویے سے مطمئن نہیںہیں‘ مسلم لیگ (ن) سے بات چیت ہوگی یا نہیں ہوگی یہ ابھی تک ایک معما ہے اسی لیے سیاسی جماعتیں محتاط بھی ہیں اور متحرک بھی، سیاسی حقائق نامہ یہ ہے کہ اگلے الیکشن کے لیے مہرے تلاش کیے جا رہے ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں