صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ مالی اور ڈیجیٹل شمولیت کے ذریعے خواتین کو مالی طور پر بااختیار بنانے میں نمایاں پیش رفت ہوسکتی ہے ، خواتین کو بااختیار بنائے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا ،خواتین کو مالی طور پر بااختیار بنانے میں حکومت ، تمام متعلقہ ادارے ، شراکت دار اور معاشرہ اپنا موثر کردار ادا کرے ۔
یہ بات انہوں نے جمعرات کویو این ویمن اور قومی کمیشن برائے وقار نسواں (این سی ایس ڈبلیو)کے زیر اہتمام نیشنل جینڈر پورٹل کے افتتاح کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ صدر مملکت نے کمپیوٹر کلک کے ذریعے پورٹل کا افتتاح کیا ، اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہاکہ ڈیٹا پورٹل کا قیام انتہائی خوش آئند ہے کیونکہ ڈیٹا کے بغیر موثر پالیسی سازی ممکن نہیں ہے ۔
صدر مملکت کا کہناتھااکہ اسلام پہلا مذہب تھا جس نے چودہ سو سال پہلے خواتین کو ان کے حقوق دیئے ، قرآن کریم میں خواتین کو وراثت کے حقوق دینے کا حکم ہے جو خواتین کو بااختیار بناتا ہے ۔ صدر مملکت نے کہا کہ بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناحبھی خواتین کو بااختیار بنانے کے حامی تھے اور ان کا کہنا تھاکہ جب تک ہم اپنی خواتین کو بااختیار نہیں بنائیں گے اس وقت تک ملک ترقی نہیں کرسکتا ۔
خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے وراثت میں ان کا حق ضرور دینا چاہئے پاکستان میں ورارثت کا قانون بہت پہلے سے موجود ہے تاہم اس کے موثر نفاذ کے لئے عملی اقدامات کے ساتھ ساتھ خواتین اور شہریوں میں قوانین کے بارے میں آگاہی بھی بہت ضروری ہے ۔ خاتون محتسب اور صوبائی سطح پر خواتین محتسب کے ذریعے وراثت کے قانون پر موثر عملدرآمد ہو سکتا ہے ۔ شہریوں کو اس بارے میں علم ہونا چاہئے حکومت نے جو قوانین بنائے ہیں اس کے مطابق کسی بھی خاتون کی جائیداد پر قبضے کو محتسب خالی کرنے کا اختیار رکھتا / رکھتی ہے ۔
صدر مملکت نے خواتین کی تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ خواتین اور بچیوں کو تعلیمی مواقع کی فراہمی میں حکومت کے ساتھ ساتھ خاندان اور معاشرے کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہئے ۔ سکولوں سے لڑکیوں کے اخراج کی شرح زیادہ ہے جس پر قابو پانے کے لئے مل جل کر کوششیں کرنی ہوں گی ۔ خواتین کو بااختیار بنانے میں ان کی صحت کا کردار کلیدی نوعیت کا حامل ہے ، خواتین کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی ضروری ہے ۔
صدر نے خواتین کو بااختیار بنانے میں احساس پروگرام کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ احساس پروگرام کے تحت خواتین کو نقد معاونت کے ذریعے بااختیار بنایا جارہاہے ، یہ بات انتہائی خوش آئند ہے کہ کاروبار کے لئے حاصل قرضہ کی واپسی کی شرح خواتین میں زیادہ ہے ۔ احساس پروگرام کے تحت اگلے مرحلے میں خواتین کے لئے علیحدہ بینک اکائونٹ کے قیام کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں تاکہ وہ خاندان کے دبائو سے آزاد ہو کر مالی طور پر خود مختاری حاصل کر سکے ، مالی اور ڈیجیٹل شمولیت کے ذریعے خواتین کو مالی طور پر بااختیار بنانے میں نمایاں پیش رفت ہو سکتی ہے ۔
صدر کا کہناتھا کہ ناخواندہ خواتین کو ہنر فراہم کرنا وقت کی ضرورت ہے ، اسی ہنر کو استعمال کرتے ہوئے ناخواندہ خواتین معاشی خود مختاری کی منزل جلد حاصل کرسکتی ہیں ۔ یہ بات انتہائی ضروری ہے کہ معاشرہ خواتین کو پیداواری عمل میں شمولیت کا موقع فراہم کرے ۔پاکستان بتدریج تبدیلی کی طرف گامزن ہے اور مجھے امید ہے کہ خواتین کو مالی طور پر بااختیار بنانے میں حکومت ، تمام متعلقہ ادارے اور شراکت دار اپنا موثر کردار ادا کریں گے ۔
