ویب ڈیسک —
مغربی ملکوں کے ایک چھوٹے لیکن مؤثر گروپ نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے چین کے ریکارڈ کی بنا پر آنے والے بیجنگ سرمائی اولمپکس کے سفارتی بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔
یہ بائیکاٹ ملکوں کو اجازت دیتا ہے کہ کھیلوں میں شرکت کے لئے اپنے ایتھلیٹس کے وفد کو بھیجیں، جبکہ وہ سرکاری طور پر کسی اعلٰی عہدیدار یا شخصیات کو بھیجنے سے انکار کرتے ہوں۔
انکار کرنے والے ملکوں میں امریکہ، آسٹریلیا، برطانیہ، کینیڈا اور لتھوانیا شامل ہیں۔
وہائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے پیر کے روز اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ہم کھیلوں کی تقریبات میں شامل نہیں ہوں گے، لیکن قوم اپنی ٹیم کی اپنے گھر سے حوصلہ افزائی کرے گی۔
کینبرا اور بیجنگ کے درمیان تعلقات پچھلے برسوں میں متعدد امور پر ابتری کا شکار ہوئے ہیں جن میں خاص طور پر کووڈ نائینٹین وبا کے ابتدائی مقام کے بارے میں آزادانہ تحقیقات شامل ہیں جو 2019 میں سب سے پہلے وسطی چین میں پایا گیا تھا۔
چین نے جواباً آسٹریلیا کی اجناس پر بھاری محصولات عائد کر دیے تھے۔ وزیر اعظم سکاٹ موریسن نے بدھ کے روز کہا کہ چین کے ساتھ ان امور کو طے کرنے میں آسٹریلیا کی جانب سے کوئی رکاوٹ نہیں ہے لیکن کہا کہ ہم آسٹریلیا کے مفادات پر اپنے مضبوط موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن بدھ کے روز پارلیمان کے اجلاس میں یہ اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایتھلیٹس ان اولمپکس میں حصہ لیں گے کیونکہ وہ نہیں سمجھتے کہ کھیلوں کا بائیکاٹ کوئی دانشمندی ہے۔
کینیڈا نے چینی حکومت کی طرف سے انسانی حقوق کی بار بار خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا اور وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ ان کا ملک ان کھیلوں کا سفارتی بائیکاٹ کرے گا۔
لتھوانیا کی تعلیم، سائنس اور کھیلوں کی وزیر یرگیفا سگونے نے پچھلی جمعرات کو، جب امریکہ نے اپنے سفارتی بائکاٹ کا اعلان نہیں کیا تھا، ایک پریس ریلیز میں کہا تھا کہ وہ اور وزارت کے دوسرے سینئر عہدیدار بیجنگ گیمز میں شرکت کےلئے سفر نہیں کریں گے۔ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات اس وقت سے خراب ہیں جب تائیوان نے لتھوانیا کے دارالحکومت میں پچھلے ماہ اپنا سفارتخانہ کھولا تھا۔
انسانی حقوق کے گروپ چین کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باعث بیجنگ سرمائی کھیلوں کا مکمل بائیکاٹ کرنے پر زور دے رہے ہیں، جن میں سنکیانگ صوبے میں لاکھوں ایغور مسلمان کو حراست میں رکھنے اور ہانگ کانگ میں جمہوریت نواز فورسز پر ظلم و جبر شامل ہیں۔
بیجنگ نے بائیکاٹ کو دباؤ ڈالنے کا حربہ کہتے ہوئے اسکی مذمت کی ہے اور امریکہ کے اس اقدام کا جواب دینے کی دھمکی دی ہے، جس کی اس نے وضاحت نہیں کی۔
یہ کھیل چار سے بیس فروری تک منعقد ہونگے۔
[اس رپورٹ میں بعض اطلاعات خبر رساں اداروں ،ایسوسی ایٹڈ پریس اور رائیٹرز سے لی گئی ہیں]