ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

جماعت اسلامی کی بڑی کامیابی، صوبائی کابینہ نے فنانس کمیشن کے قیام کی منظوری دے دی

سندھ کابینہ نے صوبائی فنانس کمیشن (پی ایف سی) تشکیل دینے کی منظوری دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ میئر کے علاوہ ٹاؤن اور یونین کونسلز کے نمائندے کمیشن کا حصہ ہوں گے۔

سندھ حکومت نے جماعت اسلامی سے معاہدے میں صوبائی فنانس کمیشن بنانے پر اتفاق کیا تھا۔

وزیراعلیٰ ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق یہ فیصلہ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا۔

گزشتہ سال نومبر میں صوبائی اسمبلی سے متنازع سندھ لوکل گورنمنٹ (ترمیمی) بل 2021 کی منظوری کے بعد جماعت اسلامی نے 31دسمبر سے 28جنوری تک سندھ اسمبلی کے سامنے ایک ماہ طویل دھرنا دیا تھا جو سندھ حکومت کی جانب سے بلدیاتی قانون میں ترمیم پر رضامندی کے بعد ختم کیا گیا تھا۔

وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے اس وقت کہا تھا کہ ‘کراچی کے میئر کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے چیئرمین ہوں گے’۔

صوبائی مالیاتی کمیشن بلدیاتی انتخابات کے ایک ماہ کے اندر اندر قائم کر دیا جائے گا، اسی طرح شہری انتظامیہ کو موٹر وہیکل ٹیکس میں اس کا واجبی حصہ ملے گا۔

اس کے علاوہ پی ایس پی نے بھی اس سلسلے میں ایک ہفتے کا دھرنا دیا تھا .

وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں صوبائی وزرا، مشیر، معاونین خصوصی، چیف سیکریٹری، چیئرمین پی اینڈ ڈی اور متعلقہ حکام شریک ہوئے

کابینہ نے آج اپنے اجلاس میں میئر کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے)، ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) اور لیاری ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کی گورننگ باڈیز کا رکن بنانے کی منظوری دے دی۔

اجلاس کے حوالے سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ اس طرح متعلقہ میئر/چیئرمین ایچ اے ڈی، سیہون ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور لاڑکانہ ڈیولپمنٹ اتھارٹیز کی گورننگ باڈیز کے ممبر ہوجائیں گے۔

ساتھ ہی صوبائی کابینہ نے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن ( کے ایم سی) کے میئر کو کراچی واٹر اینڈ سیویج بورڈ کا چیئرمین بنانے کی بھی منظوری دے دی۔

کابینہ نے صوبے کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز اور تعلقہ ہیڈکوارٹرز کو ٹاؤن کمیٹی بنانے کی ہدایت بھی جاری کی۔

اجلاس کے دوران سندھ کابینہ نے صوبے کے ہر ضلع میں یونیورسٹی یا یونیورسٹی کی کیمپس قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس کے علاوہ کابینہ نے کراچی میٹروپولیٹن یونیورسٹی قائم کرنے کی بھی منظوری دے دی۔

صوبائی حکومت نے گزشتہ ماہ کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج (کے ایم ڈی سی) کو یونیورسٹی بنانے کا اورعباسی شہید ہسپتال کو ٹیچنگ ہسپتال بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔

صوبائی کابینہ کے فیصلوں پر تبصرہ کرتے ہوئے ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ سندھ کابینہ نے آج کراچی میٹروپولیٹن یونیورسٹی بل منظور کردیا، جس کے تحت سندھ حکومت کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کو سرکاری یونیورسٹی کا درجہ دے رہی ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے اپنے سیاسی حریفوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ کے ایم ڈی سی کے طلبہ کا وہ بڑا مطالبہ تھا جسے اتنے برسوں میں ایم کیو ایم پورا نہ کرسکی۔

مزید برآں سندھ کابینہ نے لاڑکانہ میں واقع غریب و لامکاں ہاؤسنگ کالونی کے رہائشیوں کو مفت مالکانہ حقوق دینے کی منظوری دے دی۔

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی، بلاول بھٹو زرداری کی ہدایات پر سندھ حکومت کچی آبادیز کے رہائشیوں کو مالکانہ حقوق دینا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ مالکانہ حقوق کراچی کے کچی آبادیز کے رہائشیوں کو بھی دیے جائیں گے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں