فیصل آباد( وقائع نگار خصوصی)کسان بورڈ کے ضلعی صدر علی احمدگورایہ نے کہا ہے کہ بجلی اور پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے نے شعبہ زراعت کو تباہی کے دھانے پرپہنچا دیاہے، حکمرانوں کی کسان دشمن پالیسیوں کی وجہ سے دم توڑتی ملکی زرعی معیشت تباہ ہو جائے گی اوروطن عزیزشدیدبحرانوںکی زدمیں آئے گا۔ پاکستان زرعی ملک کی حیثیت سے جانا جاتا تھا، آج پاکستان کا زرعی شعبہ تباہ ہو رہا ہے، سلیکٹڈ حکومت نے معیشت کی ریڑھ کی ہڈی توڑ دی، کسان مطالبہ کر رہے ہیں کہ ہمارے مسائل حل کروزرعی شعبہ تباہ، کھاد چھین لی گئی، کسانوں کا معاشی قتل برداشت نہیں کریں گے، ہم کاشتکاروں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ زراعت کو بچانا ہے تو عمران خان کو بھگاناہوگا۔کسان جلد اسلام آباد کیلیے نکلیں گے اور ان کی حکومت کو ختم کریں گے۔انہوں نے کہاکہ زرعی مداخل کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ اور پرائس کنٹرول پر کسی بھی قسم کا چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے سے جہاں زرعی اجناس کی قیمتیں بڑھیں گی وہیں مہنگائیی کی شرح میں اضافہ کے ساتھ ساتھ پاکستان کی اضافی زرعی اجناس کو عالمی منڈیوں میں فروخت کرنے میں بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا چونکہ دیگر ممالک کی زرعی اجناس سستی ہونے کے باعث کوئی بھی پاکستان کی مہنگی زرعی اجناس خرید نہیں کرے گا جس سے نہ صرف اربوں روپے کی زرعی اجناس ضائع ہوں گی بلکہ پاکستان بھی قیمتی زر مبادلہ سے محروم ہو کر معاشی عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔کسان بورڈ کے ضلعی صدر چودھری علی احمد گورایہ نے کہاکہ بھارت، بنگلا دیش اور دیگر ہمسایہ ممالک میں زرعی اجناس کی پیداواری لاگت کو کم کرنے کیلیے کھاد، بیج،زرعی آلات، ایگریکلچر مشینری اور بجلی کی قیمتوںمیں مسلسل کمی کی جا رہی ہے جس کے برعکس پاکستان میں ان اشیا کی قیمتیں ہر روز بڑھائی جا رہی ہیں۔انہوںنے کہاکہ جعلی زرعی ادویات اور جعلی کھادوں کی تیاری و فروخت بھی عروج پر ہے لیکن متعلقہ ادارے اس بااثر مافیا کے سامنے گھٹنے ٹیکے ہوئے ہیں جس سے پہلے ہی بربادی کا شکار ملکی زراعت مزید تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت زراعت کے شعبہ کو تباہی سے بچانے کیلیے زرعی ٹیوب ویلوں پر سبسڈی جاری رکھنے اور زرعی مداخل سستے کرنے کیلیے فوری اقدامات یقینی بنائے تاکہ زرعی سیکٹر زیادہ سے زیادہ ترقی کر سکے۔