کرونا کی تباہی اور اب تاریخی مہنگائی و افراط زر کے باوجود امریکا میں بیروزگاری کا تناسب 3.8فیصد رہ گیا ۔
بتیس کروڑ آبادی والے ملک میں ساڑھے تین فیصد بیروزگاری کا مطلب ہے کہ کوئی بھی بیروزگار نہیں اسلئے کہ کچھ لوگ ایک آجر کی نوکری چھوڑ کر دوسری ملازمت کا انتظار کررہے ہیں۔تین سے چار فیصد افرادی قوت اس عبوری دور میں رہتی ہے جو تکنیکی اعتبار سے بیروزگاری کی ایک کیفیت ہے لیکن حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے۔
امریکا میں کورونا آنے کے آباد سے بے روزگاری میں آئے دن اضافہ ہورہاہے، اس حوالے سے امریکا سپر پاور ہونے کے باوجود کوئی عملی اقدامات کرنے میں ناکام ہے۔
