لاہور: موجودہ حکومت نے اپنی نااہلی ، بدترین طرز حکمرانی اور ناقص معاشی پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان کو عملاً عالمی ساہوکارمالیاتی اداروں یعنی ورلڈ بینک، آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کا غلام بنا دیا ہے اورقوم میں یہ احساس مسلسل بڑھ رہاہے۔ حکمران اس وقت ملک کو قسطوں میں فروخت کررہے ہیںاور اس طرح پاکستان کی معیشت ہی نہیں سلامتی ، سا لمیت ،خود مختاری ، آزادی اور دفاعی صلاحیت بھی عالمی مالیاتی اداروں کے پاس گروی رکھ دی گئی ہے جبکہ ہماری موٹرویزاور ائیرپورٹس بھی ضمانت کے طور پر عالمی مالیاتی اداروں کے پاس رہن ہیں۔
عالمی دباؤپر اسٹیٹ بنک کو عالمی مالیاتی اداروں کی تحویل میں دے دیاگیاہے۔ گورنر اسٹیٹ بنک کی تقرری،احتساب ، تنزلی ، کارکردگی روپے کی قدر اور بنک کی مالیاتی پالیسیوں کے سلسلہ میں خود قانون سازی کرکے اپنے ہاتھ کا ٹ کر عالمی مالیاتی اداروں کے حوالے کردیئے گئے ہیں۔ اب سٹیٹ بنک محض نام کی حد تک سٹیٹ بنک آف پاکستان ہے۔ گزشتہ دنوں آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر قرضہ حاصل کرنے کے لیے منی بجٹ پیش کیاگیا۔ جس کے ذریعے پہلے سے زندہ درگور عوام پر 360ارب روپے کے اضافی ٹیکسوں کابوجھ لاددیا گیاہے۔
ادارہ شماریات پاکستان کے دیئے گئے اعداد و شمار کے مطابق اشیائے صرف کی قیمتوں میں متعدد مرتبہ بدترین اضافوں کے ذریعے ساڑھے تین سالوں میں اکثر اشیاءکی قیمتیں دو گنا ہی نہیں تین گنا ہوچکی ہیں۔ اس وقت پاکستان کی پوری تاریخ کی بدترین مہنگائی قوم پر مسلط ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 4فیصد کمی کے باوجود پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں ملکی تاریخ کا سب سے بڑا اضافہ کیاگیاہے۔ تابعداری کا یہ عالم ہے کہ پٹرول کی قیمت میں 12روپے 3پیسے کے اضافے کی ہدایت ملی ہے تو اس پر من و عن عمل کیاگیااور عوام کو 3پیسے کی چھوٹ بھی نہیں دی گئی۔ایک مرتبہ پھر بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 6.40روپے کا اضافہ کیاجارہاہے۔ آٹا،چینی ، خوردنی تیل ، پٹرولیم مصنوعات ، کھاد ، ادویات وغیرہ کی قیمتیں متعددمرتبہ کے اضافوں کی وجہ سے آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔ عوام کے گھروں کے چولہے سرد ہیں۔ لوگ بھوک کی وجہ سے خودکشیاں کرنے پر مجبور بنادیئے گئے ہیں۔ یقیناً بھوک سے ستائے اور غربت کے مارے عوام کی آہیں اور بددعائیں عرش الٰہی کو بھی ہلا رہی ہیں۔ ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کرنے والے حکمرانوں نے مزید سوا دو کروڑ افراد کو روزگار سے محروم کردیا ہے ۔ جن میں پانچ لاکھ ڈگری ہولڈ ربھی شامل ہیں جبکہ پچاس لاکھ گھروں کے وعدے کرنے والوں نے عوام کو جھونپڑیوں سے بھی محروم کردیا ہے۔ بجلی ، گیس کی قیمتیں اپنی تاریخ کی بدترین سطح پر ہیں ۔یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ ہر بڑے معاشی بحران کے پیچھے خود حکومتی وزراءموجود ہیں۔ چینی کے مصنوعی بحران کے ذریعے حکومتی وزراءسمیت چینی مافیا نے عوام کی جیبوں پر 184ارب روپے کا ڈاکہ ڈالا ہے جبکہ آٹا مافیا نے 220ارب روپے لوٹے ہیں۔
توانائی بحران پیداکرکے IPPSکو عوام سے 350ارب روپے لوٹنے کی کھلی چھٹی دی گئی ہے۔ ایل این جی سیکنڈل کے ذریعے 100ارب روپے لوٹے گئے ہیں۔ ادویات کی قیمتوں میں 13مرتبہ اضافہ ہواہے۔ سنگ دلی کی انتہا یہ ہے کہ کووڈ کے امدادی فنڈ میں سے بھی 300ارب روپے لو ٹ لیے گئے ہیں۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں ناقابل تصور کمی ہوئی اور اب ڈالر کاتبادلہ 122کی بجائے 170روپے میں ہوتاہے۔حقیقت یہ ہے کہ ہماری معیشت کی گاڑی اناڑی ڈرائیور کے ہاتھوں میں تیزی سے ڈھلوان پر جاری ہے اور بد قسمتی سے اس کی بریکیں بھی فیل ہوچکی ہیں۔ کرپشن کے خاتمے اور کرپٹ افراد کے محاسبے کے نعرے کی بنیاد پر برسراقتدار آنے والی حکومت نے خود کرپشن کے نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔