لاہور (وقائع نگار خصوصی )امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ لاہور کے شاپنگ پلازہ میں آتشزدگی سے 400سے زائد دکانیں جل کر خاکستر ہوگئیں جبکہ تاجروں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔ چوتھے فلور پر لگنے والی آگ نے پورے پلازے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ پلازے کا ہائیڈرنٹ سسٹم ناکاہ ہونے کی وجہ سے آگ پر دس گھنٹے بعد قابو پایا گیا۔ اس واقعے کی شفاف تحقیقات کرتے ہوئے اصل حقائق سامنے لائے جائیں اور ذمے داران کے خلاف فوری طور پر کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے۔حکومت متاثرین کی ہر ممکن امداد کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مختلف تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ آتشزدگی کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، قبل ازیں حفیظ سینٹر بھی ناقص سسٹم کی بدولت مکمل طور پر جل چکا ہے۔ جس سے تاجروں کو ناقابل برداشت نقصان ہوا۔ ریسکیو احکام کی رپورٹس کے مطابق 2021ء میں صرف لاہور کے اندر چار ہزار سے زائد واقعات ایسے ہیں جو صرف آگ لگنے کی وجہ سے رونما ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور،کراچی سمیت پاکستان کے بڑے شہروں میں ہولنا ک آتشزدگی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ مگر آگ پر قابو پانے کا پرانا نظام اپڈیٹ نہیں کیا گیا۔ ہر سال کروڑوں روپے بطور فنڈز حکومت اس ادارے کو دیتی ہے مگر نظام میں جدت کہیں بھی نظر نہیں آتی۔ محمد جاوید قصوری نے اس حوالے سے مزید کہا کہ 2کروڑ کی آبادی والے شہر لاہور میں بین الاقوامی معیار کے مطابق ایک لاکھ کی آبادی پر ایک فائر اسٹیشن اور چار گاڑیاں ہونا ضروری ہے۔ اسی طرح لاہور کی دو کروڑ کی آبادی کو 200فائر اسٹیشن اور 8ہزار فائٹرز درکار ہیں جو کہ موجودہ افراد سے کئی گنا زیادہ ہے۔