پاکستان کے 100 سے زائد ممتاز شہریوں نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو خط لکھ کر ڈپٹی سپیکر کی غیر آئینی رولنگ کیس میں نظریہ ضرورت دفن کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو خط لکھنے والی ان ممتاز شخصیات میں ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والی شخصیات ہیں۔ ان میں وزیراعظم کے سابق مشیر خاص ڈاکٹر ظفر مرزا، جنرل ریٹائرڈ طلعت مسعود، مسز خاور ممتاز ودیگر شامل ہیں۔
دستخط کنندگان نے امید ظاہر کی کہ آئین کے لیے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی غیر متزلزل وابستگی اور انصاف کے لیے بے پناہ جذبہ اس مشکل وقت میں قوم کی رہنمائی کرے گا۔
خیال رہے کہ ان دنوں سپریم کورٹ میں ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ کیس کی سماعت جاری ہے۔ قاسم سوری نے 3 اپریل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد کو غیر ملکی سازش سے جوڑتے ہوئے اسے مسترد کر دیا تھا۔
I am pleased to sign the following open letter to CJP Umar Ata Bandial along with over hundred prominent academics and civil society leaders to demand that ‘Doctrine of Necessity’ is buried for good and no compromises made on supremacy of the Constitution of Pakistan! pic.twitter.com/femwzGXSYZ
— Ishtiaq Ahmad (@ahmadishtiaq) April 6, 2022
وزیر اعظم نے قوم سے خطاب میں کہا تھا کہ انہوں نے صدر کو پارلیمان تحلیل کرنے کی درخواست کر دی ہے۔ پاکستانی صدر نے وزیراعظم عمران خان کی درخواست پر اتوار 3 اپریل ہی کو قومی اسمبلی تحلیل کر دی تھی، جس کے بعد 90 روز کے اندر اندر نئے انتخابات کا انعقاد کرائے جانے کو لازمی کہا جا رہا تھا۔
یوں عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر اتوار کو ووٹنگ نہیں ہو سکی تھی اور اس معاملے پر ملک کے مختلف حلقوں نے سخت ردعمل ظاہر کر دیا تھا اور اپوزیشن سمیت ملک کے مختلف سیاسی عناصر وزیر اعظم کے اس اقدام کو غیر قانونی اور آئین شکنی قرار دے رہے ہیں۔
سپریم کورٹ وزیراعظم عمران خان کی طرف سے اپوزیشن کے عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے انہیں برطرف کرنے کی کوشش کو روکنے کی قانونی حیثیت پر دوبارہ غور و خوض کر رہی ہے۔