ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

اسپیکر قومی اسمبلی کو وزیراعلیٰ پنجاب سے حلف لینے کا حکم

لاہور(نمائندہ جسارت/آئی این پی)نومنتخب وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز سے حلف نہ لینے کے معاملے پر لاہور ہائیکورٹ نے محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا جس کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی اتوار کو( آج)حلف لیں گے۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جواد حسن نے فیصلہ سناتے ہوئے حکم دیا کہ اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف (آج) صبح ساڑھے 11 بجے حمزہ شہباز شریف سے بطور وزیراعلی پنجاب کا حلف لیں گے۔جسٹس جواد حسن نے 9 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، عدالت نے حمزہ شہباز کے حلف سے متعلق پچھلے دونوں فیصلوں کی توثیق کرتے ہوئے فیصلہ جاری کیا کہ حلف لینے کی درخواست منظور کی جاتی ہے۔لاہور ہائیکورٹ کے فیصلہ کے مطابق سیکرٹری وزارت قانون عدالت کا حکم سپیکر قومی اسمبلی تک پہنچائیں، عدالتی حکم کو فیکس کے ذریعے سیکرٹری قانون کو بھجوایا جائے۔لاہور ہائیکورٹ کے فیصلہ میں کہا گیا کہ عدالت کے پہلے دو فیصلوں کی روشنی میں سپیکر حلف لیں، وفاقی حکومت کو ہدایت کی جاتی ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی سے حلف لینے کا بندوبست کرے، بنیادی حقوق کا تحفط کرنا اس عدالت کا کام ہے، عدالت بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ایسا حکم جاری کرسکتی ہے۔دوسری جانب اسپیکر پنجاب اسمبلی اور پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنما چودھری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ حمزہ شہباز شریف کے حلف سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو چیلنج کریں گے۔ جمعہ کو نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ اسمبلی میں توالیکشن ہی نہیں ہوا،اسی لیے عدالتوں میں انصاف لینے گئے، فیصلہ آیا ہے اس کو چیلنج بھی کریں گے، گورنرپنجاب کا بھی مجھے فون آیا ہے، صدر مملکت، گورنر پنجاب بھی آئین کے تحت کام کر رہے ہیں، انا کی جنگ سے معاملہ کہیں اور جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسپیکرقومی اسمبلی کس فورم پر جا کر حلف لے گا؟ ایسے حلف تو سڑکوں پر نہیں ہوتے، الیکشن کا فورم اسمبلی تھا، حلف گورنرہائوس ہونا ہوتا ہے، صبح عدالتیں کھلیں گی تو وکلا جا کر پیش ہوں گے، ایسے تھوڑا ہو گا ایک دم سارا کچھ ختم ہوجائے گا۔ یہ نہیں ہوسکتا گھربیٹھے ہی حلف ہوجائے۔ صبح عدالتیں کھلیں گی توفیصلہ چیلنج ہونا ہے۔پرویز الہی نے کہا کہ عثمان بزدارکے نوٹی فیکشن میں لکھا ہے جب تک نیا حلف نہیں ہوتا وہ کام کرتے رہیں گے، ابھی تک 26 منحرف اراکین کا فیصلہ نہیں آیا، اگر منحرف اراکین کا فیصلہ آجاتا ہے تو یہ سارا الیکشن ہی ختم ہوجائے گا، 26 منحرف اراکین کے خلاف فیصلہ آنے کے بعد ان کے پاس اکثریت نہیں رہے گی، وزیراعلی پنجاب کا الیکشن گیلری میں ہونا بالکل غلط ہے۔انہوں نے کہا کہ صدر مملکت، گورنر پنجاب ایکشن لیں گے، صدرمملکت،گورنرپنجاب کوبائی پاس نہیں کرسکتے؟ اس طرح نہیں ہوسکتا کہ یکطرفہ فیصلہ کر دیا جائے، مجھے اللہ تعالی کی ذات پر اعتماد ہے، اللہ کی عدالت تو ہر وقت کھلی ہوتی ہے، ہوسکتا ہے ہمارے وکلا آج رات ہی پٹیشن دائر کر دیں، یہ کوئی طریقہ نہیں اسمبلی سٹاف کو اندر کر دیا جائے، اب یہ معاملات میں عدالتوں کولے آئے ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں