ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

شمالی کوریا کی پہلی بار کورونا کیسز کی تصدیق، نیشنل ایمرجنسی نافذ

شمالی کوریا کی حکومت گزشتہ دو سال سے دعوے کرتی آئی ہے کہ ان کے ہاں کورونا کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا، تاہم امریکا سمیت دنیا بھر کے ممالک شمالی کوریا کے دعووں پر خدشات ظاہر کرتے آئے تھے۔

عالمی ادارہ صحت نے بھی شمالی کوریا میں کورونا کیسز کے رپورٹ نہ ہونے اور وہاں پر ویکسین کی رسائی نہ ہونے پر بھی خدشات کا اظہار کیا تھا۔

عالمی ادارہ صحت سمیت کئی اداروں کا ماننا تھا کہ شمالی کوریا میں کافی عرصہ قبل ہی کورونا پہنچ چکا تھا مگر وہاں ٹیسٹ کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے وبا کو تسلیم نہیں کیا گیا۔

دنیا بھر میں دسمبر 2019 میں کورونا کا آغاز ہوا تو شمالی کوریا نے جنوری 2020 میں ہی اپنی زمینی سرحدیں بند کردی تھیں اور بیرون ممالک سے اسمگل ہونے والی اشیا یا امپورٹ کی گئی چیزوں پر پابندی عائد کردی تھی۔

زمینی سرحدیں بند کیے جانے سے جہاں شمالی کوریا میں اشیائے خوردونوش کی کمی دیکھی گئی، وہیں ادویات سمیت دیگر اہم چیزوں کی قلت بھی پیدا ہوئی۔

شمالی کوریا کو عالمی ادارہ صحت سمیت جنوبی کوریا اور دیگر ممالک نے بھی کورونا کی وبا کے دوران ویکسین اور ٹیسٹ کٹ کی فراہمی کی پیش کش کی تھی مگر وہاں کی حکومت نے ایسی کسی بھی پیش کش کو قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔

کورونا کے آغاز میں شمالی کوریا کے حوالے سے یہ غلط خبریں بھی پھیلی تھیں کہ وہاں پر کورونا کے چند کیسز آنے کے بعد کورونا مریضوں کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا، تاہم ایسی افواہوں میں کوئی سچائی نہیں تھی۔

ماہرین نے خیال ظاہر کیا ہے کہ شمالی کوریا میں حالیہ اومیکرون کیسز سے قبل ہی وہاں کورونا موجود تھا اور اب بھی ڈھائی کروڑ افراد کے ممالک میں ہزاروں لوگ بیماری کے ہمراہ زندگی گزارنے پر مجبور ہوں گے۔

منبع: ڈان نیوز

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں