کراچی،اسلام آباد( اسٹاف رپورٹر،خبر ایجنسیاں)وزیراعظم شہباز شریف نے سولر ٹیکنالوجی کی درآمد پر 17فیصد ٹیکس فوری ختم کرنے کا اعلان کردیا، وزیراعظم نے کہا کہ سولرانرجی پر جو17 فیصد سیلزٹیکس لگا ہے اس کو فوری واپس لیں، مفتاح اسماعیل صاحب آپ اعلان کریں، سولرپرفوری ٹیکس واپس لیں۔تقریب میں موجود وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے وزیراعظم کو حکم پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم صاحب آپ نے کہہ دیا تو بس اعلان ہو گیا۔شہبازشریف نے کہا کہ پاکستان تیل گیس پر 20 ارب ڈالر خرچ کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا ،ہمیں متبادل توانائی سولرانرجی کی طرف جانا ہو گا۔ پاکستان کو گرین انرجی کی طرف جانا ہو گا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ساڑھے 3 سال میں سولرانرجی پر جانے کے اقدامات کرتے توسلیوٹ کرتا ،ساڑھے3سال ایک دھیلے کی سبسڈی نہیں دی، آخری ماہ میں سبسڈی کی بھرمار کر گئے ہمیں سولر اور ونڈپاور پر تیزی سے آگے بڑھنا ہو گا۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی چیئر مین عمران خان نے اگلی حکومت کیلیے جال بچھایا ، عدم اعتماد کے ڈر سے پٹرولیم قیمتیں سستی کردیں، جتنی سپورٹ لاڈلے کو ملی ہماری کسی حکومت کو اس کی 30 فیصد سپورٹ ملی ہوتی تو پاکستان بے اندازہ ترتی کرچکا ہوتا، چار برس میں ڈالر 115 سے 189 روپے تک پہنچا اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں تھا۔ نئی سرکار کو سرمنڈواتے ہی اولے پڑے، اب مشکل آن پڑی ہے توپھرقربانی دینا پڑے گی۔ایوان صنعت و تجارت کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آج مجھے کراچی آنا تھا کہ پاکستان نیوی نے تقریب کا انعقاد کیا تھا جہاں پر ترکی اور پاکستان کے تعاون سے ایک جنگی جہاز لانچ کیا جانا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ کراچی میں آپ لوگوں کی خدمت میں حاضر اور موجودہ صنعتی، معاشی اور مالی صورت حال ہے اس بارے میں آپ کی رائے جاننا چاہتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلی مراد علی شاہ، مفتاح اسمعیل اور کراچی چیمبر کا شکرگزار ہوں۔وزیراعظم نے کہا کہ میں یہاں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کرنے نہیں آیا اور نہ اس کے کوئی فائدہ ہے، جو اصل مسائل ہیں اس کا حل جاننے آیا ہوں۔انہوں نے کہا کہ ہماری سیاسی مجبوری بھی تھی کہ سرمنڈھاتے ہی اولے پڑے، جنہوں نے ساڑھے 3 سال ایک دھیلے کا عام آدمی کو ریلیف نہیں دیا اور یاد نہیں آیا اور قرضے ہی قرضے لیتے رہے۔۔انہوں نے کہا کہ 2018 سے 30 مارچ 2022 تک قرضوں میں 80 فیصد اضافہ ہوا، اس وقت تو سیاسی افراتفری نہیں تھی، اس وقت لاڈلے اور لاڈلی حکومت کو ہمارے مقتدر ادارے نے وہ تعاون کیا جو پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں نہ کسی کو ملا اور نہ آئندہ کسی کو ملے گا، یہ بلاخوف و تردید کہنا چاہتا ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ بڑی انکساری سے کہتا ہوں جو تعاون اس لاڈلے کو ملے تھی اگر ہماری کسی حکومت کو اس کا 30 فیصد بھی ملا ہوتا تو پاکستان راکٹ کی طرح اوپر جا رہا ہوتا، اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میں کسی خیال دنیا میں لے کر نہیں جارہا بلکہ سب کچھ آپ کے سامنے ہے، سی پیک آیا، پورٹ قاسم اور پنجاب میں منصوبے لگے، پنجاب اور یہاں بجلی کے منصوبے لگے۔ان کا کہنا تھا کہ اربوں ڈالر کے 4 منصوبے لگائے گئے، اتنی کم مدت میں سستے اور جدید ترین مشینری کے منصوبے پاکستان ہی نہیں دنیا کی تاریخ میں نہیں لگے، منصوبے لگے اور لوڈ شیڈنگ ختم ہوئی لیکن اب لوڈ شیڈنگ کیوں شروع ہوئی۔لوڈ شیڈنگ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ سیاسی افراتفری کا نتیجہ ہے، یا بدترین نالائقی، منصوبہ بندی کی کمی، کم تجربہ کاری اور کرپشن کا نتیجہ ہے، اس کا آج فیصلہ کریں اور اس کا فیصلہ ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ یہ جو 10، 12 روپے ڈالر بڑھا ہے، اس کی کئی تاویلیں ہوسکتی ہیں لیکن میں پوچھتا ہوں کہ لوڈ شیڈنگ جو ختم ہوئی تھی دوبارہ کیوں شروع ہوئی اور 22 کھرب کا قرضہ کہاں گیا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ چبھتے ہوئے سوالات ہیں، جس کا قوم جواب مانگتی ہے اور جواب ملنا چاہیے، چینی برآمد کریں، لیکن غریب قوم کو سبسڈی دیں۔انہوں نے کہا کہ گندم پہلے برآمد ہوتی تھی اب درآمد ہونے لگی کیا یہ سیاسی افراتفری کا نتیجہ تھا۔شہباز شریف نے کہا کہ کراچی میں سب سے بڑا مسئلہ پانی کا ہے، پانی کے حوالے سے ڈی سیلی نیشن پلانٹ لگائیں گے تو مسئلہ حل ہو جائے گا، سعودی عرب کی ایک ارب ڈالر کی انویسٹمنٹ ٹیبل پر موجود ہے، سندھ حکومت عقیل کریم ڈھیڈی، موتی والا کو ساتھ بٹھائے، سارے صوبوں میں آئی ٹی ٹاوربننے چاہئیں۔پاکستان نے اگر آگے بڑھنا ہے تو ایکسپورٹ پر توجہ دینا ہو گی، قومیں اس طرح نہیں بنتی بینک سے لون لیا اور پھر معاف کرا لیا، قومیں وہی ترقی کرتی ہیں جو وقت کی قدر کرتی ہیں، ایکسپورٹ کے لیے انڈسٹریل زون بنائے جائیں، چین پربھونڈے الزامات لگائے گئے، چین دوبارہ راضی ہوگیا ہے۔دریںاثناء وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان کے ضلع شیرانی میں صنوبر کے جنگلات میں آتشزدگی کا نوٹس لیتے ہوئے ہنگامی امداد کے وفاقی اداروں کو فوری کارروائی کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جمعہ کو جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے جنگلات میں آتشزدگی سے تین افراد کے جاں بحق ہونے پر رنج وغم اور افسوس کا اظہار کیا ۔ وزیراعظم نے صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر سات کلومیٹر کے دائرے میں لگی آگ کو بجھانے کے لئے ہنگامی اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے واقعہ کی تحقیقات کرانے اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کی بھی ہدایت کی۔