ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

برآمدی پابندیوں سے بچنے کی چین کی کوششوں کی چھان بین کی جا رہی ہے، امریکہ

ایسے میں جب کہ چین کی جانب سے امریکی تعزیرات سے بچ نکلنے کی کوششوں کے بارے میں تفتیش جاری ہے، امریکہ کے وزیر تجارت جینا ریمانڈو نے کہا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ چینی صنعتی اداروں کو ممنوعہ فہرست میں ڈالنے کے متعلق سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔

محکمہ تجارت کی اس فہرست میں ان مصنوعات کی تفصیل درج ہے جنہیں امریکہ برآمد کرنے کی اجازت نہیں ہے اور اس تک رسائی ممنوع ہے۔

امریکہ کی وزیر تجارت نے اخباری نمائندوں کو بتایا ہے کہ انتظامیہ چین کے بدنام عناصر کے بارے میں معلومات اکٹھی کر رہی ہے، اور یہ کہ ایسی کمپنیوں کو ‘بلیک لسٹ’ میں ڈال دیا جائے گا۔ اس ضمن میں، اس وقت کئی معاملوں کی چھان بین کاعمل جاری ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ”مجھے نہیں لگتا کہ بہت جلد ہم ان تعزیرات میں نرمی برتیں گے”۔

وزیر تجارت نے کہا کہ چین بھی خاموش نہیں بیٹھا۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ وہ بھی ہماری جانب سے عائد کردہ پابندیوں سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ نئی کمپنیاں بنا نے جیسے کاموں میں مصروف ہے۔جب کہ ہماری طرف سے انتہائی جارحانہ اور چوکسی پر مبنی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ جب بھی ممکن ہوا، ان کی یہ کوشش ہوگی کہ امریکی اتحادیوں کے ساتھ مل کر ان کی نافذ کردہ تجارتی بندشوں کے سلسلے کو امریکی برآمدات کے کنٹرول کے نظام سے جوڑ دیا جائے۔


ٹرمپ انتظامیہ نے مندرجات کی فہرست کا جارحانہ استعمال کیا تھا، جس میں چین کی درجنوں کمپنیوں کو شامل کر دیا گیا تھا جن میں سے 2019ء میں ‘ واوائے ایچ ڈبلیو ٹی ڈاٹ یو ایل’ کو بھی رکھا گیا۔ اس میں چپ میکر ‘ایس ایمآئی سی 0981۔ ایچ کے’ اور سال 2020ء میں چینی ڈرون ساز ‘ڈی جے آئی’ کو بھی شامل کر لیا گیا تھا۔

قومی سلامتی اور بیرونی پالیسی پر تشویش کے پیش نظر، بائیڈن انتظامیہ نے نومبر میں اس پالیسی کو وسعت دیتے ہوئے ‘اینٹٹی لسٹ’ میں چین کی درجن بھر کمپنیوں کو شامل کیا ہے؛ جن میں کچھ معاملوں میں مثلاً چینی فوج کی ‘کوانٹم کمپیوٹنگ’ کی ترقی کی کوششوں میں مدد دی جارہی تھی۔

دسمبر میں امریکی محکمہ تجارت نے چین کے ملٹری میڈیکل سائنسز اور اس کے 11 تحقیقی اداروں کو بھی ‘اینٹٹی لسٹ’ میں شامل کیا گیا۔


ریمانڈو نے ایک تازہ رپورٹ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ‘ایپل انکارپوریٹڈ اے اے پی ایل ڈاٹ او’ اپنی کچھ پیداوار کو چین سے واپس لانا چاہتا ہے۔
بقول وزیر تجارت، میں نے یہی بات کئی امریکی مینوفیکچرنگ کمپنیوں سے سنی ہے، جن میں سے متعدد نے کئی عشروں سے چین میں مینوفیکچرنگ کا کام جاری رکھا ہوا تھا”۔

فروری میں، امریکی محکمہ کاروبار نے 33 چینی اداروں کو غیر مستند فہرست میں ڈال دیا تھا، جس کے بعد ان اداروں کو اشیا بھجوانے سے پہلے کئی ایک اضافی ضابطوں کو مد نظر رکھنا ہوگا۔

واشنگٹن ڈی سی میں واقع چین کے سفارت خانے نے گزشتہ سال کہا تھا کہ” نیشنل سیکیورٹی کی آڑ میں، امریکہ سبھی کو گرفت میں لاتا ہے اور سرکاری اختیارات کے غلط استعمال کے ذریعے چینی صنعتی اداروں کی راہ میں ہر ممکن طریقے کی رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں۔

(خبر کا مواد رايیٹرز سے لیا گیا)

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں