ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

پاکستان پھر سے بدترین لوڈ شیڈنگ کا شکار، عمران خان کی یاد جلد آنے لگی

تحریر محمد امنان

پرویز مشرف کا دور گیا تو ملک عزیز لوڈ شیڈنگ کے نام سے ایسا واقف ہوا کہ آج تک اس سے
جان بخشی نہ ہو پائی۔ پیپلز پارٹی کے دور کے بعد ن لیگ کے دور میں کچھ سکھ کا سانس آیا تو
آئی ایم ایف کے قرضوں اور مہنگائی کے اژدھے نے عوام کو نگلنا شروع کر دیا اس کا سلسلہ
آج تک جاری و ساری ہے۔

وطن عزیز میں ان دنوں کسی ایمرجنسی یا خدانخواستہ تباہی کا گمان ہوتا ہے۔ روشنیوں کا شہر
کراچی اور ملک کی شہ رگ پنجاب سے لیکر گلگت بلتستان تک لوڈ شیڈنگ کی گونج ایک بار
پھر سے شدت کے ساتھ سنائی دیتی ہے۔

پرویز مشرف کی طرح‌ عمران کی یاد

ممکن ہے کہ چند دنوں تک عوام کو پرویز مشرف کی طرح عمران خان کی یاد ستانے لگے کیونکہ
عمران خان کی حکومت نے اور کچھ کیا نہ ہو لیکن لوڈ شیڈنگ سے وقت ریلیف ضرور دیا تھا۔ کراچی
جیسا شہر بے شمار مسائل کے ساتھ آج کل لوڈ شیڈنگ کا دوہرا عذاب بھی بھگت رہا ہے۔

موجودہ حکومت میں نا صرف پیپلز پارٹی اور ن لیگ بلکہ دیگر سیاسی جماعتوں کے گھاگ سیاستدان
موجود ہونے کے باوجود لوڈ شیڈنگ کا جن کسی طرح قابو میں آکر نہیں دے رہا۔ وزیر اعظم نے مہنگائی
ختم کرنے کے لیے کپڑے بیچنے جیسے بیان کے ساتھ عیدالفطر سے پہلے تک لوڈ شیڈنگ ختم ہونے
کا دھانسو بیان تو دے دیا تھا مگر تاحال وعدہ وفا نہ ہو سکا۔

عمران خان کی حکومت عوام کو اس لیے بھی یاد آئے گی کہ تین سالوں میں قطرہ قطرہ مہنگائی بڑھی
تو ضرور مگر اس قدر شدید نہ تھی کہ لوگ دو وقت کی روٹی کی بجائے ایک وقت کے کھانے پہ
اکتفا کرنے پر مجبور ہو جاتے

پاکستان کا نازک دور کب ختم ہو گا؟

ملکی معیشت کو پیروں پہ کھڑا کرنے کی دعویدار یہ رنگ برنگی حکومت شاید اس بات سے بے خبر
ہے کہ کراچی کا کاروبار، فیصل آباد کی انڈسٹری اور پورے ملک کی ایکسپورٹ کا دار و مدار بجلی
پہ ہے۔ عام آدمی کی ضروریات کا ڈائریکٹ واسطہ بھی بجلی سے ہے کیونکہ 75 سالوں سے ٹھنڈی
ہوا ہی وہ واحد شے ہے جو عام آدمی کو آسانی سے میسر ہے دیگر سہولیات کے لیے تو ہمیشہ ملک
نازک دور سے گذر رہا ہوتا ہے۔

عام آدمی کے حالات جانے کب سنوریں لیکن ایک بات طے ہے کہ اس ملک کی آمرانہ اور جمہوری
حکومتوں کا حصہ رہنے والے آج بھی پرتعیش زندگی گذارتے ہیں اور گذار رہے ہیں لیکن مسائل یہاں
صرف غریب آدمی کے لیے ہیں جو احسن طریقے سے تمام حکومتیں عوام کو بہم پہنچاتی رہتی ہیں۔

عمران خان پر ملبہ کب تک؟

موجودہ حکومت کے دیگر ٹیموں سے وابسطہ تمام کھلاڑی مل ملا کے عمران خان کو گراونڈ سے باہر
تو کر چکے مگر تاحال اسے ذہنوں سے نہ نکال پائے اس کی مثال تمام وزراء کی روز کی پریس کانفرنسز
ہیں جس میں عمران خان پہ تمام مسائل کا ملبہ ڈال کے چین کی نیند سو جاتے ہیں۔ اور غریب

خیر ان کے لیے تو یہ وطن شاید بنایا ہی نہیں گیا یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف کے رہنما ہوں یا عوام
سب کو چند دنوں تک شدت سے عمران خان یاد ضرور آئے گا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں