یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ روس کو اپنے ملک کے خلاف شروع کی گئی جنگ کی "سب سے زیادہ” قیمت ادا کرنی چاہیے۔
زیلنسکی اور برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے دارالحکومت کیف میں ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کا اہتمام کیا۔
اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ دفاعی اور سلامتی کے مسائل ان کے ملک کے لیے اہم ہیں، زیلنسکی نے کہا کہ روسی میزائل یوکرینی عوام اور ان کی سر زمین کے لیے بدستور خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ "روسی فوج کے بہت سے میزائل حملوں کا مقصد عام لوگوں اور سویلین انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا ہے۔ روسی گھروں، اسکولوں، ہسپتالوں، یونیورسٹیوں، ٹرانسپورٹ گاڑیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ روسی میزائلوں کے خلاف دفاعی حمایت ہماری اور ہمارے شراکت داروں کی ترجیح ہونی چاہیے۔ جو کہ ہماری زمینوں میں ہمارے عوام کی زندگیوں کو یقینی بنائے گا۔”
زیلنسکی نے بتایا کہ انہوں نے جانسن کے ساتھ بھاری ہتھیاروں کی کھیپ بڑھانے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ روس پر جنگ کی وجہ سے پابندیاں عائد کی گئی تھیں، زیلنسکی نے مذکورہ پابندیوں کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا اور کہا کہ "جارح روس کو اس جنگ کی سب سے زیادہ قیمت ادا کرنی ہوگی۔ اس کے علاوہ روس کو ہمارے عوام اور ان کے کاروبار کو پہنچنے والے تمام نقصانات کا ازالہ کرنا ہو گا۔
جانسن نے یہ بھی کہا کہ یوکرین کے فوجی اپنی قوم کی خودمختاری اور آزادی دونوں کے دفاع کے لیے لڑ رہے ہیں،
"یہی وجہ ہے کہ میں نے زیلنسکی کو سب سے مضبوط قوتوں کی طرف سے ایک نئے فوجی تربیتی پروگرام کی تجویز پیش کی ہے جو یوکرین کی کامیابی کے عزم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس جنگ کی مساوات کو بدل سکتا ہے۔
اگر زیلنسکی اس تجویز کو قبول کر لیتے ہیں تو توقع ہے کہ یہ تربیتی پروگرام یوکرین کی سرزمین سے باہر ہو گا۔