ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

آدھی رات کو رینجرز اہلکاروں نے ارسلان خان کو گھر سے اٹھایا اور لاپتہ کردیا، اہلیہ کا دعویٰ

صحافی اہلیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ رات ان کے گھر 10 کے قریب رینجرز اہلکاروں نے دھاوا بولا اور ارسلان خان کو اٹھا کر یہ کہتے ہوئے لے گئے کہ تم نے بڑی ریاست کیخلاف باتیں کرنا شروع کر دی ہیں۔

ارسلان خان کی اہلیہ عائشہ کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں ان کے گھر سے اٹھایا گیا۔ بی بی سی سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ جمعے کی شب رات کے غالباً 4 بجے دروازے پر دستک ہوئی اور 10 کے قریب اہلکار گھر میں داخل ہو گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ سب اہلکاروں نے چہرے نقاب سے ڈھانپ رکھے تھے۔ اہلکاروں نے ارسلان سے کہا کہ پاکستان میں رہ کر اس کیخلاف باتیں کرتے ہو۔ تم نے پریشان کر کے رکھا ہے۔ تم ریاست کے خلاف لکھتے ہو۔ اس پر میرے شوہر نے ان سے کہا کہ میں قانون کی پیروی کرنے والا ایک معزز شہری ہوں لیکن ان کی ایک نہ سنی گئی اور اٹھا کر لے گئے۔

فواد حسن نامی صحافی نے اپنی ٹویٹ میں بتایا ہے کہ ارسلان بھائی مہاجر لاپتہ افراد پر کہانیاں بنانے میں میری مدد کر رہے تھے۔ ان کو خطرات کا علم تھا۔ جب میں اس پر بات کی تو اس نے مجھ سے کہا: "یار اب اٹھانا ہے تو اٹھا لیں۔

صحافی اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ فواد حسن کا کہنا ہے کہ ارسلان کراچی کی آواز کو سپورٹ کرتے تھے۔ ’جو شہری لاپتہ ہیں، جو اسیر ہیں، وہ اُن کی معلومات رکھتے تھے اور لاپتہ افراد کے اہلخانہ کی خبرگیری کرتے تھے۔‘

سینئر صحافی حامد میر نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صبح چار بجے ارسلان خان کے گھر میں ایک ریاستی ادارے کے اہلکار نقاب پہن کر گھس گئے انکی وطن سے محبت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ چہرے چھپا کر لوگوں کو اٹھاتے ہیں انہیں پتہ ہے کہ وہ غلط کام کر رہے ہیں جو ریاست اپنے تحفظ کے لئے نقاب پہن لے وہ ڈاکو بن جاتی ہے۔

حامد میر نے کہا کہ کیا ارسلان خان نے کسی ریاستی ادارے کے سربراہ کے خلاف کوئی ٹرینڈ چلایا؟ کیا ارسلان خان نے کسی جلسے میں کسی ریاستی ادارے کے خلاف کوئی نعرہ لگایا یا لگوایا؟ سندھ رینجرز ، سندھ پولیس اور آئی ایس پی آر بتائے کہ ارسلان خان کو کس ادارے نے کس الزام کے تحت اٹھایا؟

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں