انگلینڈ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ صدر ولادی میر پوتن کو، روس کی مغربی سرحد پر، "پہلے سے زیادہ نیٹو” دکھائی دے گا۔
جانسن نے، اسپین کے دارالحکومت میڈریڈ میں منعقدہ نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت سے قبل اخباری نمائندوں کے لئے بیانات جاری کئے۔
انہوں نے کہا ہے کہ "روس کے یوکرین پر حملے کے بعد صدر پوتن کو امید تھی کہ ملک کی مغربی سرحد پر نیٹو کی موجودگی میں کمی آ جائے گی لیکن یہ صریحاً ان کی غلط فہمی تھی۔ پوتن کو نیٹو، اب پہلے سے زیادہ دیکھنے کو ملے گا”۔
انہوں نے کہا ہے کہ میڈریڈ کا نیٹو سربراہی اجلاس متعدد پہلووں سے ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ فن لینڈ اور سویڈن ہمارے دو نئے رکن ہوں گے۔ یہ نیٹو اتحاد کے لئے ایک اہم قدم ہے۔
جانسن نے کہا ہے کہ سربراہی اجلاس میں ہم یوکرین کی مزید امداد کا فیصلہ کریں گے۔ اس کے علاوہ ہم نیٹو کی جارحانہ و دفاعی قوت کو مزید تقویت دیں گے۔
اسپین کی وزیر دفاع مارگریٹا روبلس نے بھی کل طے پانے والے سہ فریقی میمورینڈم کے بارے میں جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "ہم ترکی کی طرف سے ویٹو ہٹائے جانے کو بہت مثبت خیال کرتے ہیں۔ ترکی پیٹریاٹ دفاعی سسٹم کا مالک ملک ہے۔ ہم ہر ملک کی ذاتی پوزیشن کا احترام کرتے ہیں لیکن کل باہمی اتحاد کو ظاہر کرنے کے لئے بہت بڑی کوشش کی گئی ہے۔ یہ وقت باہم متحد ہونے کا وقت ہے”۔
روبلس نے کہا ہے کہ "بحیثیت اسپین ہم ترکی، فن لینڈ اور سویڈن کی طرف سے ظاہر کردہ کوشش کا مثبت خیر مقدم کرتے ہیں۔ اس سمجھوتے کا میڈرڈ میں طے پانا اسپین کے لئے الگ سے باعث مسرت ہے”۔