ترکی کی قومی اسمبلی کے اسپیکر مصطفیٰ شَن توپ نے النہضہ تحریک کے رہنما راشد الغنوشی، جنہیں تیونس نیما ایسوسی ایشن کی تحقیقات کے بعد رہا کردیا گیا ہے کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔
مصطفیٰ شَن توپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر کہا ہے کہ راشد غنوچی کی طویل آزمائش کے بعد رہائی قابل ستائش ہے۔ میں ان کی جلد صحت یابی کی دعا کرتا ہوں۔
مصطفیٰ شَن توپ نے اپنے پیغام میں کہا کہ سیاسی جدوجہد سیاست دانوں کے درمیان اور سیاسی طریقوں سے لڑی جانی چاہیے اور عدلیہ کو سیاسی جدوجہد کا آلہ کار نہیں ہونا چاہیے۔
گزشتہ روز النہضہ موومنٹ کے رہنما راشد الغنوچی کو تیونس نیما ایسوسی ایشن کی تحقیقات کے دائرہ کار میں انسداد دہشت گردی کے عدالتی مرکز میں ہونے والی سماعت کے بعد رہا کر دیا گیا۔
تیونس نیما ایسوسی ایشن کیس کے دائرہ کار میں جن لوگوں کے بینکوں میں اثاثے منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے فریم ورک کے اندر بلاک کیے گئے تھے ان میں غنوچی اور ان کے بیٹے کے ساتھ ساتھ سابق وزیر اعظم حمادی الجبالی اور ان کے دو۔ بیٹیاں، اور سابق وزیر خارجہ رفیق عبدالسلام کے نام بھی شامل تھے۔
غنوچی نے کہاہے کہ انہیں 14 جولائی کو انسداد دہشت گردی عدالتی مرکز سے گواہی کے لیے طلب کیا گیا ہے، اس لیے وہ ، 19 جولائی کو تفتیشی جج کے سامنے پیش ہوں گے۔
غنوچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ان پر لگائے گئے تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔