وزیرِ خارجہ میولود چاوش اولو نے اسرائیل کی فلسطینیوں کے خلاف جارحیت کی سختی سے مذمت کی ہے۔
وزیر خارجہ نے دارالحکومت انقرہ میں 13 ویں سفرا کانفرس سے خطاب کیا۔
فلسطینی دعوے میں ترکی کی بھرپور حمایت جاری ہونے کی وضاحت کرنے والے چاوش اولو نے کہا، "غزہ پر اسرائیل کے حملے اور اسرائیلی جنونی یہودی گروہوں کی طرف سے مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے کی کوششیں ناقابل قبول ہیں۔ ہم اسرائیل کی پر زور طریقے سے مذمت کرتے ہیں اور ہماری خواہش ہے کہ کل رات ہونے والا جنگ بندی کا اعلان مستقل ہو۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ترکی کہیں زیادہ منصفانہ عالمی نظام کے قیام کے لیے سرگرداں ہے، خوراک کے عالمی بحران کے حل کے لیے یوکیرینی اناج کی برآمدات کے معاملے میں استنبول معاہدے پر عمل درآمد جیسی پیش رفت ہماری ڈپلومیسی کو پروان چڑھا رہی ہے۔
چاوش اولو نے آذربائیجان کے ساتھ یکجہتی کا پیغام بھی دینے والے ترک وزیر نے آرمینیا کو نئی اشتعال انگیزی میں ملوث نہ ہونے پر دوبارہ خبردار کیا ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا، "اگر ہم یورپی یونی کے ساتھ ملکر وہی کرتے جو ہم نے اکیلے حاصل کیا ہے، تو یورپی یونین پوری دنیا میں ایک عالمی اداکار بن جاتا۔” انہوں نے کہا کہ یورپی سلامتی کو ترکی کی ضرورت ہے۔
یونان کے ساتھ باہمی تعلقات کے معاملے میں وزیر ِ خارجہ نے کہا کہ "ہم بین الاقوامی قانون اور مساوات کے اصولوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ کیے بغیر اپنی مشرقی بحیرہ روم پالیسی پر عمل پیرا ہیں کو جاری رکھتے ہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ بحیرہ ایجین میں آپس میں جڑے ہوئے مسائل سے جامع، مستقل اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق نمٹا جائے۔ تاہم یونان مسائل کو حل کرنے کی خواہش نہیں رکھتا ۔”
انہوں نے کہا کہ یوکیرین بحران نے ترکی کی قدر وقیمت کو ایک بار پھر دنیا بھر کے سامنے لایا ہے ، تاریخ کے بہاو نے ترکی کی دوست موقف کو واضح طور پر پیش کیا ہے۔
عراق کی تازہ پیش رفت کا قریبی جائزہ لینے پر زور دینے والے وزیر چاوش اولو نے بتایا کہ”علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم کے اس ملک میں وجود کے خلاف بھی اقدامات اٹھائے جانے کی توقع رکھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں دہشت گرد تنظیموں کے حوالے سے متحدہ امریکہ کی طرف سے متوقع حمایت تعاون نہیں مل سکا، "ہم سمجھتے ہیں کہ امریکہ کو ہماری جائز توقعات کے مطابق کام کرنا چاہیے۔