کراچی:پولیس سرپرستی میں منشیات فروشی کا کاروبار عروج پر پہنچ گیا بالخصوص ضلع ملیر کے تھانہ ابراہیم حیدری کا حدود منشیات فروشوں کا گڑھ بن گیا اور وہان کے منشیات فروش دلدار، گورا چاند اور سلیم کرسٹل، آئس اور ہیروئن کے بڑے ڈیلر بن گئے۔
منشیات فروش دلدار کے 6بیٹے اور گورا چاند کی 4بیٹیاں پورے شہر میں منشیات سپلائی کرتی ہیں جن میں تعلیمی ادارے بھی شامل ہیں۔ ضلع ملیر میں منشیات فروشوں کا ہدف ریڑھی گوٹھ، سوکواٹر، چکرا گوٹھ اور مرغی خانہ قائدآباد شامل ہے، تھانہ ابراہیم حیدری کے حدود میں منشیات فروشوں کے اڈوں میں لائینیں لگی رہتی ہیں منشیات کے عادی افراد، ڈیفنس، محمد علی سوسائٹی، اسکول، کالج اور یونیورسٹیوں کے لڑکے اور لڑکیاں بڑی تعداد میں ابراہیم حیدر کا رخ کرتے ہیں۔
صورتِ حال اتنی سنگین ہے کہ نشئی لڑکے اور لڑکیاں اپنے ہی گھروں میں چوری اور ڈکیتی کرکے اپنا نشہ پورا کرتے ہیں۔
سنگین صورتِ حال کے پیشِ نظر ایس ایس پی ملیر عرفان بہادر نے منشیات فروشوں کے خلاف کاروائی کا حکم دیدیا جس پر ایس ایچ اور ابراہیم حیدری اکرام آرائیں نے کاروائی کرتے ہوئے صرف ایک ملزم سلیم کو گرفتار کرلیا جس پر ایک درجن سے زائد مقدمات زیر سماعت ہیں۔
تھانہ ابراہیم حیدری کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ تھانہ کے بیشتر اہلکاروں کی بڑدی تعداد نے وہاں کی مقامی رہائشی برمی اور بنگالی خواتین سے دوسری اور تیسری شادیاں کر رکھی ہیں جن سے مخبریاں بھی کرواتے ہیں اور بعض اہلکار ان سے منشیات فروشی بھی کرواتے ہیں۔
حال ہی میں گرفتار کئے گئے ملزم سلیم سے کوئی ایماندار اور غیر جانب دار پولیس افسر تحقیقات کرے تو سنسنی خیز انکشافات سامنے آسکتے ہیں۔
منشیات فروش دلدار، گورا چاند اور سلیم کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے منشیات فروشی میں لیاری اور دیگر علاقوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
واضح رہے کہ پولیس سرپرستی میں ضلع ملیر کے دیگر تھانوں بالخصوص شاہ لطیف ٹائون کے مختلف علاقوں کے علاوہ قائدآباد کے علاقے مرغی خانہ کے درجنوں گھروں میں عورتیں اور بچے بھی منشیات فروشی کے کام میں ملوث ہیں۔
دریں اثناء سائبان انٹرنیشنل ویلفیئر آرگنائزیشن کے جنرل سکریٹری حیدر علی حیدر نے اپنے بیان میں وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور آئی جی سندھ غلام نبی میمن سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ منشیات کی روک تھام کیلئے تمام تھانوں کو ہدایات جاری کریں اور سرکاری سطح پر منشیات کے عادی افراد کے جبری علاج کیلئے مخصوص اسپتال قائم کیا جائے تاک منشیات کی بڑھتی ہوئی لعنت پر قابو پایا جاسکتے۔