اسلام آباد : سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کی شرائط ماننے کا فیصلہ کیا ہے اور ڈالر کو فری فال جانے دیں گے، 31جنوری کو آئی ایم ایف اپنا جائزہ وفد بھیجے گا۔
انہوں نے کہ اکہ پاکستان ڈیفالٹ رسک میں مبتلا تھا لیکن اب ہم ڈیفالٹ رسک سے باہر نکل جائیں گے، حکومت کو ڈالرز کی قیمت طے کرنے کے بجائے ایکسپورٹ کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔
جمعرات کو نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کی شرائط ماننے کا فیصلہ کیا ہے اور ڈالر کو فری فال جانے دیں گے،اس فیصلے کے بعد آئی ایم ایف کی طرف سے بھی یہ مثبت پیغام دیا گیا ہے کہ 31جنوری کو اپنا جائزہ وفد بھیجے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ڈیفالٹ رسک میں مبتلا تھا لیکن اب ہم ڈیفالٹ رسک سے باہر نکل جائیں گے ابھی کچھ عرصے تک چیزوں میں مشکلات آئیں گی لیکن ملک کے مستقبل کےلئے بہتری ہو گی۔ میں نے اپنے دور میں یہ کوشش کی تھی کہ آئی ایم ایف پروگرام چلتا رہے اور میں نے بڑی مشکل سے راستے ہموار کئے تھے، اب دوبارہ حکومت اسی پروگرام کی طرف واپس چل پڑی ہے جو کہ ایک خوش آئند بات ہے۔
سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام میں تاخیر سے جانے سے زر مبادلہ میں ماہانہ 10 فیصد کی کمی ہوئی ہے، جو تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر بنتے ہیں، کنٹینرز رکھنے سے انڈسٹریل پروڈکشن میں کمی آئی ہے، آئی ایم ایف پروگرام میں تاخیر سے جانے سے چار ماہ کے کل 3بلین ڈالرز کی کمی واقع ہوئی ہے۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ حکومت کو ڈالرز کی قیمت طے کرنے کے بجائے ایکسپورٹ کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔
