اسلام آباد:جماعت اسلامی پاکستان کے رہنما سینیٹر مشتاق احمدخان نے ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے معاملے پربحث کے لئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کرنے کامطالبہ کر تے ہوئے کہا ہے کہ پولیس فوج اور عدلیہ کوعوام اپنا پیٹ کاٹ کر دوہزار ارب روپے دیتے ہیں پوچھا جائے کیوں یہ واقعات ہو رہے ہیں۔
سینیٹر مشتاق احمد خان نے پشاور پولیس لائن دھماکہ کی مذمت کرتے ہوئے خیبرپختونخوا پولیس کو خراجِ تحسین پیش کیا کہ پولیس ہماری فرنٹ لائن ہے، انہوں نے بہت قربانیاں دی ہیں۔خیبرپختونخوا میں ٹارگٹ کلرز کا راج ہے ،دہشت گردی بھتہ خوری بم دھماکے ہیں ۔
رہنما جماعت اسلامی پاکستان کا کہنا تھا کہ عوام بے بس ہیں، عوام کو بے یارومددگار چھوڑ دیا گیا ہے ۔ مئی سے دسمبر 2022تک 636 حملے ہوئے ہیں ۔خیبرپختونخوا کا وجود زخمی ہے، اگر اے پی ایس واقعہ کی تحقیقات ہوتی ۔بنوں جیل کی تحقیقات ہوتی، سوات واقعہ اور سی ٹی ڈی بنوں پر قبضے کی تحقیقات ہوتی، ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کی تحقیقات ہوتی تو تو آج مسجد میں دھماکہ واقعہ نہ ہوتا ۔
انہوں نے کہاکہ فوج پولیس اور عدلیہ کو ٹیکس گزارعوام اپنا پیٹ کاٹ کر دوہزار ارب روپے دیتے ہیں توان سے پوچھا جائے کیوں یہ واقعات ہو رہے ہیں ہمیں بتایا جائے یہ ادارے کیوں تحفظ نہیں دے رہے ۔
سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہاکہ پشاور کی تاریخ میں پہلی بار تھرمل سائیٹ اور نائیٹ ویجن گن کا استعمال کر رہے ہیں ،ہم حکومت سے اور سیکیورٹی اداروں سے پوچھتے ہیں کہ آپکا پلان کہا ں ہیں ۔ہمارے سیکیورٹی ادارے اور ایجنسیاں ناکام ہیں ۔ انٹیلیجنس کا کیا کردار ہے، ہمیں تو کہیں نظر نہیں آ رہی ۔
انہوں نے کہا کہ پولیس لائن میں دھماکے ہو رہے ہیں ۔انٹلی جنس کہاں ہیں۔ سلیپر سلز کو ختم کرنے کے یے حکومت کیا کر رہی ہے ۔جب بارڈرز پر خاردار تاریں لگا دی تو دہشت گرد کیسے حملہ اور ہو جاتے ہیں؟ پار لیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر سیکیورٹی پر بریفنگ دیں ۔ کے پی میں دہشت گردی کے واقعات کیوں ہو رہے ہیں ۔ہمیں جواب دیا جائے ۔
