ترکیہ میں 6 فروری کے زلزلے کے بعد سینکڑوں افراد پر مشتمل امدادی ٹیمیں اور ہزاروں رضا کار ملبے تلے دے متاثرین کو زندہ نکالنے کے لئے جان توڑ کوششیں کر رہے ہیں۔
اگرچہ زلزلے کے بعد کئی گھنٹے گزر چُکے ہیں لیکن اس کے باوجود امید بندھانے والے خبریں مِل رہی ہیں۔
ضلع حطائے میں ملبے تلے دبی 40 سالہ سلمیٰ حصار کو زلزلے سے 80 گھنٹے بعد اور 2 سالہ مرد تاتار کو 79 گھنٹے بعد زندہ سلامت نکال لیا گیا ہے۔
حطائے میں ہی زلزلے سے منہدم ایک اور عمارت کے ملبے سے 72 گھنٹوں کے بعد 5 افراد کو زندہ نکال لیا گیا ہے۔ ایک ماں بیٹے کو 70 گھنٹے بعد اور ایک بچے سمیت 2 غیر ملکیوں کو 67 گھنٹوں بعد۔ تحصیل کرک خان میں زلزلے سے 68 گھنٹے بعد 3 بچوں سمیت 6 افراد کو اور ایک 7 ماہ کے بچے کو 66 گھنٹے بعد ملبے سے نکال لیا گیا ہے۔
ضلع غازی آنتیپ کی تحصیل اصلاحیہ میں 17 سالہ انزیلیہ سیوملی کو 78 گھنٹے بعد اور 2 بیٹوں اور باپ کو 76 گھنٹوں بعد ملبے سے زندہ نکال لیا گیا ہے۔
ضلع ادانا میں ملبے تلے دبی ایک عورت کو 75 گھنٹے بعد ملبے سے نکال لیا گیا ہے۔
قہرمان ماراش میں 72 گھنٹوں بعد اسماعیل آلتن اولک نامی 72 سالہ مرد کو ، 73 گھنٹوں بعد ایک 5 سالہ بچے سمیت 3 افراد کے کنبے کو، 70 گھنٹوں بعد 49 سالہ دران شکر، 68 گھنٹوں بعدایک 80 سالہ عورت کو ملبے سے زندہ نکال لیا گیا ہے۔
ضلع دیار بکر کی تحصیل باعلر میں 72 گھنٹے بعد ایک عورت کو بچا لیا گیا ہے۔
ضلع آدیامان میں 36 سالہ مرد کو زلزلے سے 77 گھنٹے بعد اور ایک ماں اور 2 بیٹیوں کو 65 گھنٹے بعد بچا لیا گیا ہے۔
تحصیل گیول باش میں جیرن اور ایلف نامی بہنوں کو 70 گھنٹوں بعد ملبے سے نکال لیا گیا ہے۔
ضلع شانلی عرفا کی تحصیل بریجک میں بھی ایک عورت کو 69 گھنٹوں بعد زخمی حالت میں ملبے سے نکال لیا گیا ہے۔