کراچی: پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر سلیم یوسف نے کہا ہے کہ بھارت کا ایشیا کپ کے لیے پاکستان آنے سے صاف انکار سخت فیصلہ ہے، اگر بھارتی ٹیم اپنے فیصلے پر برقرار رہتی ہے تو پھر پاکستان کو بھی ورلڈکپ کے لیے بھارت نہیں جانا چاہیے۔
کراچی میں نجی ٹی وی سے گفتگو میں سلیم یوسف نے کہا کہ کرکٹ میں یکطرفہ فیصلے نہیں کیے جاتے ، پاکستان کوئی معمولی ٹیم نہیں ہے، اس کا شمار دنیا کی ٹاپ ٹیموں میں ہوتا ہے۔
انہوں نے نے کہا کہ شائقین کرکٹ پاک بھارت میچز دیکھنا چاہتے ہیں، اگر بھارت یہ سمجھتا ہے کہ وہ بڑی ٹیم ہے اور وہ پاکستان نہیں جائے گا تو پھر پاکستان کو بھی بھارت نہیں جانا چاہیے کیونکہ پاکستان میں دنیا کی تمام بڑی ٹیمیں آچکی ہیں، آسٹریلیا، انگلینڈ، نیوزی لینڈ سب ہی ٹیموں نے پاکستان آکر سیریز کھیلی، بھارت کو بھی پاکستان آکر ایشیا کپ کھیلنا چاہیے، شائقین کرکٹ دونوں ممالک کو ایک ساتھ کھیلتا دیکھنا چاہتے ہیں۔
سابق وکٹ کیپر کا کہنا تھا کہ شاہین شاہ نوجوان بولر ہیں، جو ابھی انجری سے واپس آئے ہیں، ان پر کپتانی یا نائب کپتانی کا بوجھ ڈالنا مناسب نہیں ہوگا، ان کی ابھی بہت کرکٹ باقی ہے ، ان پر ابھی یہ دباؤ نہیں ڈالا جائے۔بلاشبہ شاہین کی قیادت میں لاہور قلندرز نے لگاتار دو بار پی ایس ایل ٹائٹل جیتے لیکن ان پر یہ بوجھ سود مند ثابت نہیں ہوگا۔
سلیم یوسف نے کہا کہ بابر اعظم بہترین کپتان ہیں انہیں کپتان برقرار رہنا چاہیے، سمجھ نہیں آتا ہے کہ کپتانی کی تبدیلی کی بات کہاں سے آ رہی ہے،ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ٹیم کا نائب کپتان شاداب ہو یا شاہین شاہ آفریدی کوئی زیادہ فرق نہیں پڑتا، البتہ ٹیم کا کپتان صرف بابر اعظم کو ہی رہنا چاہیے۔
