ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

امریکہ کے ساتھ معاہدہ: جنوبی کوریا جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا

امریکہ کے ساتھ اس معاہدے کے بدلے میں کہ شمالی کوریا کی جانب سے نیوکلیئر حملے کی صورت میں امریکی ہنگامی منصوبہ مندی میں جنوبی کوریا کو فیصلہ سازی میں زیادہ کردار دیا جائے گا ت سیول نے اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو آگے نہ بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

امریکہ اور جنوبی کوریا بدھ کو صدر جو بائیڈن اور ان کے جنوبی کوریا کے ہم منصب صدر یون سک یول کی وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے موقع پر اس معاہدے کا اعلان کر رہے ہیں۔

جنوبی کوریا کے رہنما دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات کی 70 ویں سالگرہ کا جشن منا نے اور دونوں اتحادیوں کے درمیان مستقبل کے تعلقات پر بات کرنے کے لیے واشنگٹن کا دورہ کر رہے ہیں۔

دونوں ملکوں کے مابین طے پانے والا معاہدہ ’’واشنگٹن ڈیکلریشن‘‘ کہلائے گا۔ بائیڈن انتظامیہ کے ایک سینئر اہل کار نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ کئی مہینوں کے دوران طے پانے والے اقدامات کا نتیجہ ہے اور جمہوریہ کوریا کے لیے امریکی ’’ ڈیٹرنس‘‘ کے وعدوں کا اعادہ کرے گا۔


جنوبی کوریا کی وزارت دفاع کے مطابق بحری مشقوں میں امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا کے جنگی جہازوں نے حصہ لیا۔

جنوبی کوریا کی وزارت دفاع کے مطابق بحری مشقوں میں امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا کے جنگی جہازوں نے حصہ لیا۔

اہل کار کے مطابق معاہدے کے تحت سیول ’’اپنی غیر جوہری حیثیت کو برقرار رکھے گا اور جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) پر دستخط کنندہ کی حیثیت کی تمام شرائط کی پابندی کرتا رہے گا‘‘.

جنوبی کوریا نے 1975 میں این پی ٹی معاہدے کی توثیق کی تھی۔ یہ معاہدہ ریاستوں کو جوہری ہتھیار تیار کرنے سے روکتا ہے۔

دونوں ممالک یو ایس – آر او کے نیوکلیئر کنسلٹیو گروپ کے نام سے ایک مشاورتی گروپ بھی قائم کریں گے، جو ایک ’’ باقاعدہ دوطرفہ مشاورتی طریقہ کار ہے‘‘ جو جوہری اور اسٹریٹیجک منصوبہ بندی کے امور پر توجہ مرکوز کرے گا۔


فائل فوٹو: جی سیون کے وزرائے خارجہ کی جرمنی میں ہونے والے اجلاس کے موقع پر لی گئی تصویر

فائل فوٹو: جی سیون کے وزرائے خارجہ کی جرمنی میں ہونے والے اجلاس کے موقع پر لی گئی تصویر

یہ مشاورتی گروپ جنوبی کوریا کو امریکہ کی بڑے ہنگامی حالات کی منصوبہ بندی کے بارے میں سوچ پراضافی بصیرت فراہم کرے گا ۔

اہل کار کے مطابق زیادہ سے زیادہ معلومات کے تبادلے کے علاوہ، امریکی ہتھیاروں کی تعیناتی کے بارے میں بات چیت میں بھی جنوبی کوریا کی زیادہ آواز شامل ہو گی۔

جنوبی کوریا کے ساتھ مشاورتی طریقہ کار امریکہ کے اس طریقہ کار کی طرح ہے جو اس نے سرد جنگ کےدور میں اپنے اتحادیوں کو نیوکلیئر ڈیٹرنس پر تعاون کے سسلسلے میں اپنایا تھا۔

( پیٹسی وڈاکوسوارا وی او اے نیوز)

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں