فیصل آباد:وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ اگر ایک اسمبلی کا الیکشن 14 مئی اور باقی کے بعد میں ہوں گے تو ملک کا بٹھا بیٹھ جائے گا، فل کورٹ بٹھا دیں فیصلہ قبول کریں گے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہاکہ 9 رکنی بینچ اب تین رکنی بینچ رہ گیا ہے، کسی کو ذاتی عناد پر فیصلے نہیں کرنے چاہیئں، گزشتہ چار سالوں میں گالم گلوچ، تقریروں کے علاوہ کچھ نہیں کیا گیا، اگر کوئی غلط بات کرے گا تو لیک ہو گی، چیف جسٹس صاحب کی ساس محترمہ گفتگو فرما رہی ہیں، کچھ تجزیہ کار کہہ رہے ہیں نجی گفتگو لیک ہونا بری بات ہے، پرائیویٹ گفتگو انسان تک محدود ہوتی ہے۔
رانا ثنا نے مزید کہا ہے کہ اگر ملک کے کسی کیس کے حوالے سے گفتگو ہو گی تو پرائیویٹ کیسے ہوگئی، ساس محترمہ اگر کہتی ہیں عمر بیٹا عید ہمارے گھر آکر کرو تو پرائیویٹ ہوتی، اگر اس کیس کا فیصلہ ہوتا ہے تو ملک کیلئے تباہی کا باعث بن سکتا ہے، اگر فل کورٹ نے فیصلہ نہ کیا تو یہ کیس ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے، اس کیس پر محترمہ اثر انداز ہو رہی ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ محترمہ دس، پندرہ ہزار بندے کو لاکھوں بتا کر جھوٹ بول رہی تھی، یہ گفتگو پرائیویٹ کیسے ہوگئی؟، چودہ مئی کو سپریم کورٹ کا الیکشن کا حکم ہے، یہ ان کا پراپیگنڈا ہے ہم الیکشن سے نہیں بھاگ رہے، ہمارا مطالبہ ہے الیکشن ایک ہی دفعہ ہونے چاہیئں۔
