ویب ڈیسک —
امریکہ میں ایک مذہبی کمیونٹی روی داسیا ، ایک ایسے بل کی حمایت کر رہی ہے جس کا مقصد کیلی فورنیا میں ذات پات کے امتیاز کو کالعدم قرار دینا ہے۔ یہ کمیونٹی مساوات کو اپنے عقیدے کا مرکز قرار دیتی ہے ۔اگر یہ قانون منظور ہو جاتا ہے تو ریاست کیلی فورنیا اپنے قوانین میں ذات پات کے نظام کو کالعدم قرار دینے والی پہلی امریکی ریاست بن جائے گی۔ اس سال فروری میں، سیئٹل ایسا ہی قانون پاس کرنے والا پہلا امریکی شہر بن گیا تھا۔
روی داس کمیونٹی کے اراکین کا کہنا ہے کہ ذات پات کے تعصب کے خلاف قانون سازی کی عوامی سطح پر حمایت کرنا خود کو سب کے سامنے لا کھڑا کرنا ہے لیکن وہ یہ خطرہ مول لینے کے لیے تیار ہیں کیونکہ مساوات کے لیے لڑنا ان کے خون میں شامل ہے۔
روی داسیا کمیونٹی کیا ہے ؟
امریکی ریاست کیلیفورنیا کی سنٹرل ویلی میں روی داسیا کمیونٹی کے تقریباً 20,000 ارکان رہائش پذیر ہیں جن میں سے اکثریت کی جڑیں بھارتی پنجاب میں ہیں۔ یہ لوگ اس علاقے سے تعلق رکھنے والے 14ویں صدی کے ایک گرو، روی داس کے پیروکار ہیں اور اپنے گرو کی طرح یہ لوگ بھی دلت یعنی اچھوت ذات سے تعلق رکھتے ہیں ۔
ہمیشہ پس منظر میں رہنے والے یہ لوگ اب چاہتے ہیں کہ ان کی آواز بھی سنی جائے اور اسی لیے وہ ریاست کی سینیٹ میں اس بل کی حمایت کر رہے ہیں جو کیلیفورنیا میں ذات پات کے فرق کو غیر قانونی قرار دے گا۔ کمیونٹی کے بہت سے اراکین کا کہنا ہے کہ انہیں اب بھی ملازمتوں، تعلیم اور عبادت گاہوں میں ذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتاہے اسی لیے وہ آج بھی اونچی برادری والوں کے سامنے یہ بتاتے ہوئے ہچکچاتے ہیں کہ وہ دلت ہیں ۔
گرو روی داس کون تھا؟
روی داس ایک گرو، صوفی اور شاعر تھے جو شمالی بھارت کی بھکتی تحریک کی مشہور شخصیات میں سے ایک رہے ۔ انہوں نے اپنی تعلیمات میں محبت اور عقیدت کے پیغام کو سب سے اوپر رکھا اور ذات پات کے نظام کے خلاف تبلیغ کی۔ روی داس 14ویں صدی میں بھارت کے شہر وارانسی کے قریب ایک گاؤں میں چمڑے کا کام کرنے والے موچی خاندان میں پیدا ہوئے ، جنہیں چمار کہا جاتا اور اچھوت سمجھا جاتا تھا ۔
روی داسیا کے مندر
روی داسیا کی عبادت گاہ کو سبھا، ڈیرہ، گرودوارہ یا گروگھر کہا جاتا ہے، جس کا ترجمہ مندر کے طور پر بھی کیا جا تاہے۔ جن کی عبادت گاہ میں داخل ہونے سے پہلے پیروکار اپنا سر ڈھانپتے ہیں اور اپنے جوتے اتار دیتے ہیں۔ ۔ مندروں میں پوجا کے بعد کا کھانا پیش کیا جاتا ہے جیسا کہ سکھ گوردوارے بھی کرتے ہیں، جسے لنگر کہا جاتا ہے۔ روی داسیا مندر اکثر عبادت گاہوں میں مورتیاں یا گرو روی داس کی تصویریں دکھاتے ہیں۔
ر وی داسیا کی شناخت
پروفیسر رونکی رام کا کہنا ہے کہ روی داسیا کمیونٹی کی شناخت کرنا مشکل ہے کیونکہ وہ مختلف مذہبی کمیونٹیز کی روایات کی پیروی کرتے ہیں نہوں نے کہا کہ گذشتہ کچھ عرصے سے وہ اپنے لیے ایک الگ شناخت بنانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن، وہ سکھ روایات کی بھی پیروی کرتے ہیں۔
روی داسیا کے بہت سے مرد ارکان لمبے بال رکھتے ہیں اور پگڑی پہنتے ہیں اور سکھوں کے عقیدے کی طرح کڑا، لکڑی کی کنگھی اور کرپان یا چاقو اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔ کمیونٹی میں بہت سے مردوں اور عورتوں کے آخری نام سکھوں کی طرح سنگھ اور کور ہوتے ہیں ۔
روی داس عقیدے کے کچھ پیروکار ہندو بھی ہیں جو بھارت کے مختلف حصوں سے تعلق رکھتے ہیں لیکن امریکی ریاست کیلی فورنیا میں روی داسیا کمیونٹی کے ارکان زیادہ تر بھارتی پنجاب سے آکر آباد ہوئے ہیں۔
سکھ ازم کے ساتھ کمیونٹی کا رشتہ
نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی کی بشریات اور ایشین اسٹڈیز کی اسسٹنٹ پروفیسر ساشا سبھروال کہتی ہیں کہ سکھ مذہب کے ساتھ روی داسیا برادری کا تعلق کافی اہم اور لچکدار ہے۔
اسے کسی رشتے یا تعلق کا نام نہیں دیا جا سکتا یہ ایک بہت پیچیدہ خیال ہے کہ ان لوگوں کے لیے ایمان کا کیا مطلب ہے ،بہت سے معاملات میں یہ آزاد اور خود مختار ہیں اور روی داسیا میں ہمیں کچھ چیزیں دیگر عقیدوں سے مشابہ بھی نظر آتی ہیں ۔
سبھروال کہتی ہیں کہ اتحاد کا راستہ بامعنی اسٹرکچرل تبدیلیاں کرنے میں ہی پوشیدہ ہے۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اکثر ذات پات کو ایک مسئلے کے طور پر تسلیم ہی نہیں کیا جاتا ۔
اس رپورٹ کا مواد اے پی سے لیا گیا ہے۔