روس کے صدر ولادی میر پوتن نے کہا ہے کہ یوکرین کے مغربی اتحادیوں نے آخری یوکرینی تک روس کے ساتھ جنگ کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔
صدر پوتن نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے منعقدہ سلامتی کونسل اجلاس میں یوکرین کے عسکری جانی و مالی نقصان کا جائزہ لیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ اتحادی ممالک عسکری سامان تو مہیا کر سکتے ہیں لیکن یوکرین کی فوجی طاقت محدود ہے۔ یوں لگتا ہے کہ یوکرین کے مغربی اتحادیوں نے آخری یوکرینی تک روس کے ساتھ جنگ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
روس کے وزیر دفاع سرگے شوگوئے نے بھی کہا ہے کہ حالیہ 16 دنوں سے جاری گرم جھڑپوں میں یوکرین مسلح افواج کو بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے۔ دشمن کی فعالیت میں کمی آ گئی ہے۔ اس وقت یوکرین اپنی یونٹوں کی دوبارہ سے گروپ بندی کر رہا ہے”۔
شوئے گو نے کہا ہے کہ بعض حوالوں سے یوکرینی فوج، اہم جانی نقصان کے باوجود جنگ جاری رکھنے کی طاقت رکھتی ہے۔ ہم یوکرین کے نئے حملوں کے مقابل تیاریاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
شوئے گو نے کہا ہے کہ "ہم اضافی فوج تیار کر رہے ہیں۔ ہر چیز طے شدہ شکل میں جا رہی ہے۔ جون کے آخر تک ہم اضافی فوج اور زمانہ قریب میں کورپس مکمل کر لیں گے۔
انہوں نے کہا ہے کہ روس مسلح افواج میں، براہ راست سمجھوتے کے ساتھ ،ایک لاکھ 14 ہزار افراد بھرتی کئے گئے ہیں اس کے علاوہ 50 ہزار سے زائد رضاکار بھی فوج میں شامل ہیں۔
وزیر دفاع سرگے شوئے گو نے کہا ہے کہ اوسطاً 1336 افراد نے ایگریمنٹ پر فوج میں بھرتی کی درخواست دی ہے۔
واضح رہے کہ 24 فروری 2022 میں روس کے صدر ولادی میر پوتن کے یوکرین پر قبضے کے حکم کے ساتھ روس۔یوکرین جنگ شروع ہو گئی تھی۔