اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن آف پاکستان کو انشورنس سے پہلے میڈیکل ٹیسٹوں کے بارے میں پالیسی بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
صدر مملکت نے ہدایت کی کہ اسٹیٹ لائف ڈاکٹروں کا پینل تشکیل دے جو تجویز کرے کہ پاکستان میں عام بیماریاں کون سی ہیں اور پالیسی اجرا سے پہلے کون سے ٹیسٹ کرائے جانے چاہئیں۔
صدر نے یہ احکامات انشورنس کمپنیوں اور شہریوں کی جانب سے دائر متعدد اپیلوں کے تناظر میں جاری کئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ انشورنس کمپنیاں کلیمز کی ادائیگی سے انکار کر رہی ہیں ،انشورنس کمپنیاں قبل از انشورنس بیماری چھپانے کے الزام پر انشورنس کی رقم ادا کرنے سے انکار کر رہی تھیں۔
صدر مملکت نے وفاقی محتسب کے فیصلوں کے خلاف اسٹیٹ لائف انشورنس کی دو علیحدہ علیحدہ اپیلیں مسترد کردیں۔ صدر مملکت نے اسٹیٹ لائف کو دو پالیسی ہولڈرز کے خاندان کے افراد کو36 لاکھ سے زائد رقم ادا کرنے کی ہدایت کی۔ تفصیلات کے مطابق محمد یوسف اور عابدہ بی بی نے اسٹیٹ لائف سے بالترتیب 34 لاکھ اور2 لاکھ روپے کی لائف انشورنس پالیسیاں حاصل کیں،پالیسی ہولڈرز کی وفات کے بعد لواحقین نے انشورنس کلیمز کی ادائیگی کیلئے اسٹیٹ لائف سے رابطہ کیا مگر قبل از انشورنس بیماریاں چھپانے کا بہانہ بنا کر کلیمز کی رقم کی ادائیگی سے انکار کردیا گیا۔