راولپنڈی:سربراہ عوامی مسلم لیگ اور سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ صدر نے الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر سیاسی ہلچل پیدا کر دی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر)پر اپنے بیان میں شیخ رشید نے کہا کہ ایکٹ اور آئین میں مقابلہ اور لڑائی شروع ہوگئی ہے، الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں کے شیڈول کا اعلان کر دیا اور ساتھ بیان دے دیا کہ 90 دن میں الیکشن نہیں ہو سکتے۔
ایکٹ اور آئین میں مقابلہ اور لڑائی شروع ہو گئی ہے الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں کے شیڈول کا اعلان کر دیا اور ساتھ بیان دے دیا کہ 90دن میں الیکشن نہیں ہو سکتے الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے بعد سیاستدانوں یا سیاسی پارٹیوں سے ملاقات بے معنی ہےلیکن آٸین ہی جیتےگا اور آٸین ہی نافذ العمل…
— Sheikh Rashid Ahmed (@ShkhRasheed) August 24, 2023
انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے بعد سیاستدانوں یا سیاسی پارٹیوں سے ملاقات بے معنی ہے لیکن آئین ہی جیتے گا اور آئین ہی نافذ العمل ہوگا، اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے فیصلہ عدالتوں میں ہوگا، صدر نے الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر سیاسی ہلچل پیدا کر دی ہے۔
سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سیاست میں 20 دن انتہائی اہم ہیں، پہلے صدر نے ٹوئٹ لکھ کر بھونچال پیدا کیا اور اب الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر ہلچل پیدا کر دی ہے، الیکشن کمیشن صدر کی مشاورت کو اہمیت نہیں دے گا اور صدر کی بات نہیں مانی جائے گی، اگر صدر الیکشن کی تاریخ دے دیتے ہیں تو پھر ایک نیا پنڈورا باکس کھل جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن 90 دن میں ہوتے ہیں 4 مہینوں میں یا نہیں ہوتے یہ ایک اہم مسئلہ ضرور ہے لیکن سب سے اہم مسئلہ پاکستان میں اس وقت بجلی کے فی یونٹ میں مزید 5 روپے 40 پیسے اضافہ ہے، حقیقت یہ ہے کہ لوگ آٹا، چینی اور پٹرول کے بعد بجلی کے بل دینے کے بھی قابل نہیں ہیں۔
سربراہ عوامی مسلم لیگ کا مزید کہنا تھا کہ ڈالر نے ٹرپل سنچری مکمل کر لی ہے، معاشی، سیاسی، اقتصادی حالات سنگین سے سنگین تر ہوتے جا رہے ہیں، لوگوں کی سیاست پیچھے رہ گئی ہے، لوگوں کی اپنی زندگی اور بقا کا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے، اللہ تعالی پاکستان کے حال پر رحم کرے۔
