وزیر صحت فخر الدین قوجہ نے کہا کہ غزہ کو صحت کی امداد کے حوالے سے منصوبہ بندی اور رابطہ کاری کے لیے اردن کے ساتھ کام شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اپنے بیان میں قوجہ نے کہا کہ وہ غزہ میں ہسپتال حملوں کے حوالے سے اپنے بین الاقوامی ہم منصبوں سے بات چیت کر رہے ہیں اور اس تناظر میں انہوں نےاردن کے وزیر صحت فراس ابراہیم الحواری سے بھی مشاورت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹیلی فونک رابطے میں دونوں ممالک کے تعاون کے لیے منصوبہ بندی اور رابطہ کاری کے لیے بات چیت شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا، قوجہ نے کہا کہ انھوں نے اپنے ہم منصب الحواری کو دیگر ممالک کے وزرائے صحت اور سینیئر مینیجرز کے ساتھ اپنے مذاکرات کے بارے میں بھی آگاہ کیا ہے۔
قوجہ نے کہا کہ بحیثیت ترکیہ، ہم نے اپنے فلسطینی بھائیوں کی مدد کے لیے مل کر کام کرنے کی پیشکش کی ہے، اور اس دائرہ کار میں ہم فیلڈ ہسپتال کے قیام، زخمیوں کو مزید معائنے اور علاج کے لیے ترکیہ لے جانے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضروری، طبی عملے کی مدد، اور ادویات اور طبی آلات کی فراہمی کے علاوہ انہوں نے اپنے اردنی ہم منصب کو اپنے خدشات سے بھی آگاہ کیا ہے ۔
قوجہ نے کہا کہ الحواری نے کہا کہ وہ تعاون کی تجویز اور نقطہ نظر کے لیے ترکیہ کے شکر گزار ہیں۔
وزیر صحت قوجہ نے اپنی پوسٹ میں کہا، "غزہ میں چار ہسپتالوں کی سروس بند ہے۔ بجلی کی بندش اور ایندھن کی کمی کی وجہ سے 14 مراکز صحت خدمات فراہم نہیں کر سکتے۔ طبی امداد اور دواسازی کی امداد کو بلاک کر دیا گیا ہےجبکہ ہم ان رکاوٹوں کو دور کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔