ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

جنگ بندی کیلئے قاہرہ میں عالمی رہنماؤں کی امن کانفرنس شروع

قاہرہ: خطے کی موجودہ صورتحال کے جائزے اور اسرائیلی جارحیت سے پیدا ہونے والی صورتحال پر تبادلہ خیال  اور جنگ بندی کے اقدامات کے لیے قاہرہ میں مختلف ممالک کے رہنماؤں اور اعلیٰ حکام کی   کانفرنس شروع ہوگئی۔

اس کانفرنس کو قاہرہ امن سمٹ کا نام دیا گیا ہے، جس میں اردن، فرانس، جرمنی، روس، چین، برطانیہ، امریکہ، قطر ،جنوبی افریقہ،اقوامِ متحدہ اوریورپی یونین  سمیت ممالک کے نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔

اس سمٹ میں عرب اور یورپی ممالک کے نو رہنما اور پانچ وزرائے اعظم کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ، یورپی یونین اور افریقی یونین کے اعلیٰ سطحی نمائندے بھی شامل ہیں۔

کانفرنس میں عالمی رہنما جنرل سیسی کی دعوت پر جمع ہوئے ہیں،جس میں توقع کی جارہی ہے کہ سیسی امن کے قیام کے حوالے سے روڈ میپ بھی پیش کریں گے۔

قاہرہ امن سمٹ میں فلسطین کے صدر محمود عباس، اردن کے شاہ عبداللہ دوم، بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ، قطر کے امیر تمیم بن حمد الثانی، متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زید النہیان، صدر محمد اوولد غزوانی ،لیبیا کی صدارتی کونسل کے چیئرمین محمد المنفی، جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا، قبرص کے صدر نیکوس کرسٹوڈولائڈز اور کویت کے ولی عہد مشال الاحمد الجابر الصباح،عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابوالغیط، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس، یورپین کونسل کے صدر چارلس مشیل اور افریقی یونین کمیشن کے چیئرپرسن موسی فاکی بھی شریک ہیں۔

اسکائی نیوز عربیہ کو ٹی وی کو انٹریو دیتے ہوئے مصر کے وزیر خارجہ سامح شکری نے کہا کہ سربراہی اجلاس کا مقصد غزہ کی صورتحال کو کم کرنا، جنگ بندی تک پہنچنے میں مدد کرنا ہے۔

قاہرہ سربراہی اجلاس برائے امن غزہ کی پٹی کے لیے رفح سرحدی گزر گاہ کو کھولنے  ،غزہ کے عوام کے لیے متعدد علاقائی اور بین الاقوامی این جی اوز کی طرف سے فراہم کردہ انسانی امداد اور طبی سامان لے جانے والے ٹرکوں  باحفاظت غزہ تک پہنچانے کے معاملات زیر غور آئیں گے۔

کانفرنس  میں  عبدالفتاح السیسی نے رہنماؤں کو دعوت دی کہ وہ غزہ کی پٹی میں انسانی تباہی کے خاتمے اور اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن کی راہ کو بحال کرنے کے لیے ایک روڈ میپ پر اتفاق کریں۔ انہوں نے کہا کہ روڈ میپ کے اہداف میں غزہ کو امداد کی ترسیل اور جنگ بندی پر اتفاق کرنا شامل ہے ۔

اردن کے شاہ عبداللہ نے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام شہریوں کی زندگیاں اہمیت رکھتی ہیں۔ “غزہ میں مسلسل بمباری کی مہم  خطے کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے،اسرائیلی بمباری بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔یہ ایک جنگی جرم ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے سربراہی اجلاس میں شرکت کی اور انسانی ہمدردی کی راہداریوں کو کھولنے کا مطالبہ کیا۔

واضح رہے کہ یہ سربراہی اجلاس  ایسے  وقت منعقد ہو رہا ہے جب اسرائیل غزہ پر زمینی حملے کی تیاری کر رہا ہے اور اب تک 4,200 سے  زاہد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں