ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

پاکستان ڈائری- 48

ایڈز ایک ایسی جان لیوا بیماری ہے جس کے بارے میں بات کرتے ہویے لوگ شرم محسوس کرتے ہیں۔لیکن یہاں یہ بات جان لینا بہت ضروری ہے کہ یہ بیماری صرف جنسی تعلقات بے راہروی سے نہیں پھیلتی بلکے اس کے پیچھے بہت سے دیگر وجوہات بھی ہیں۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق  لوگ علاج میں تاخیر کرتے ہیں اوران کے پاس علاج معالجے کی سہولیات بھی دستیاب بھی نہیں۔ انکو اس بیماری کے حوالے سے آگاہی بھی نہیں ہے ۔لوگوں کا عمومی رویہ بھی ایسے مریضوں کے ساتھ نفرت آمیز ہوتا ہے تو بہت سے کیسز رجسرڈ ہی نہیں ہوتے۔ لوگ اس بیماری کو چھپانے لگ جاتے ہیں۔ اس لیے یہ بیماری پھیل جاتی ہے۔

ایچ آیی وی ایڈز ایک ایسا خطرناک مرض ہے  جو انسان میں قوت معدافت ختم کردیتا اور ہر طرح کی بیماریاں انسان پر حملہ آور ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔اس کی علامتیں ظاہر ہونے میں دو سے پندرہ سال کا عرصہ گزر جاتا ہے۔ ابتدایی علامات جو ظاہر ہوتی ہیں ان میں مختلف انفکیشنز کا ہونا مسلسل بخار،کھانسی،اسہال،وزن میں کمی،گلے میں سوزش،نزلہ زکام اور جوڑوں میں درد شامل ہے۔اگر یہ علامتیں ہوں تو فوری طور پر ایڈز کے لیے مخصوص شعبے کا رخ کیا جایے اور ڈاکٹر کے مشورے کے بعد ٹیسٹ کروایے جایں۔،استعمال شدہ سرنج کا استعمال،متاثرہ مریض کے ساتھ جنسی تعلقات،ہم جنس پرستی،متاثرہ عورت سے اس کے پیدا ہونے والے بچے میں منتقل ہوجاتاہے۔اس کے علاوہ ایڈز متاثرہ خون لگوانے سے،منشیات کا استعمال کرنے والے،ڈاکٹرز کے طبی اوزار اگر صاف نا کیے جایں اورٹیٹوز ناک کان چھیدوانے کے اوزار اگر سٹرلایز نا ہوں تو یہ بیماری پھیلانے باعث بنتے ہیں۔

اس بیماری سے بچنے کا سب سے بڑا طریقہ احتیاط اور اس مرض کے حوالے سے آگاہی ہے۔اگر آپ سے بیماری کے پھیلنے کی وجوہات سے واقف ہیں تو ان تمام چیزوں اور کاموں سے احتیاط کریں جوکہ اس مرض کے پھیلاو کا باعث ہیں۔اسلامی تعلیمات پر عمل کریں اور بے راہروی سے پرہیز کریں۔ہمیشہ نی سرنج کا استعمال کریں،سڑکوں پر بیٹھے ہویے دندان سازوں اور ناک کان چھیدوانے سے مکمل اجتناب کریں۔اگر کسی کو خون لگوانا ہو تو معیاری بلڈ بینک سے لیں اگر کویی فرد عطیہ کر رہا ہو تو اس کا ٹیسٹ کروایا جایے کہ وہ ہر طرح کی بیماری سے محفوظ ہے۔پالرز میں قینچی اور مینی پیڈی کیور کرنے والے اوزار مکمل صاف ہوں۔کسی کا استعمال شدہ بلیڈ استعمال نا کریں

اس بیماری کی تشخیص ہونے کے بعد مریض کوسب سے زیادہ ہمدردی چاہیے ہوتی ہے۔ایڈز جیسے موذی امراض کے شعبے میں ماہر نفسیات بیٹھایں جایں تاکہ مریضوں کو حوصلہ ملے اور کویی شخص بھی ان کی تضحیک نا کرے۔اس کے بعد ایڈز کے مریضوں کے علاج کے لیے اب ادویات دستیاب ہیں جوکہ اس بیماری کو مکمل طور پر ختم کرنے کی صلاحیت تو نہیں رکھتی لیکن مختلف ادویات کی مدد سے ایڈز کو کہیں سال تک کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔تاہم یہ ادویات بہت مہنگی ہیں اس لیے حکومت کو ان ادویات کو مریضوں کو رعایتی نرخوں پر فراہم کرنا ہوگی اس کے ساتھ ساتھ دیگر اشیا جو ایڈز کے تدارک میں استعمال ہوتی ہیں انہیں عام کیا جاہے۔محکمہ صحت خود اس بات کی نگرانی کرے کہ ہسپتالوں،بلڈ بینک اور لیباٹریوں میں صحت و صفایی کے اصولوں کا مکمل خیال کیا جایے۔تب جا کر ہم اس بیماری پر قابو پاسکتے ہیں۔اس کے ساتھ میڈیا حکومت اور سول سوسایٹی  آگاہی پھیلایے تاکہ  ایڈز کو مزید پھلنے سے روکیں۔دسمبر میں اس حوالے سے عالمی دن منایا جاتا ہے اس بیمار پر بات کریں تاکہ یہ مزید پھیلنے سے رک جائے۔

 

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں