اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاور ڈویژن نے جولائی 2024ء سے ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کے ساتھ مختلف سلیب کے حساب سے بجلی ٹیرف کی تفصیلات جاری کردیں جن کے مطابق ٹیکسز کے ساتھ گھریلوصارفین کا فی یونٹ زیادہ سے زیادہ ٹیرف69 روپے 27 پیسے تک بڑھنے کا انکشاف ہوا ہے۔پاور ڈویژن کی دستاویز کے مطابق نان پروٹیکڈ گھریلو صارفین کے لیے ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کے ساتھ ماہانہ ایک سے100یونٹ تک استعمال پر ٹیرف37 روپے 38 پیسے، ماہانہ 101 سے 200 یونٹ تک کا ٹیرف 45 روپے 15 پیسے، ماہانہ201 سے300 یونٹ تک کا ٹیرف 50 روپے17 پیسے ہوگا۔دستاویز کے مطابق ماہانہ301 سے 400 یونٹ تک کا ٹیرف 56 روپے 73 پیسے، ماہانہ401 سے 500 یونٹ کا ٹیرف 59 روپے 76 پیسے، ماہانہ501 سے 600 یونٹ تک کا ٹیرف61 روپے71 پیسے، ماہانہ601 سے 700 یونٹ کا ٹیرف 63 روپے24 پیسے اور ٹیکسزکے ساتھ ماہانہ700 یونٹ سے زیادہ کے استعمال پر ٹیرف 69روپے27 پیسے ہوجائے گا۔پاور ڈویژن کی دستاویز کے مطابق ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کے ساتھ ایک سے100 یونٹ تک پروٹیکڈ صارفین کا ٹیرف 19 روپے 75 پیسے اور ماہانہ101سے 200 یونٹ تک پروٹیکڈ صارفین کا ٹیرف 22 روپے 71 پیسے ہوجائے گا۔اس میں کہا گیا کہ ٹیکسز کے ساتھ ماہانہ50 یونٹ تک لائف لائن صارفین کا ٹیرف4 روپے 74 پیسے اور ماہانہ51 سے100یونٹ تک لائف لائن صارفین کا ٹیرف9 روپے 28 پیسے برقرار رہے گا۔وفاقی کابینہ نے رواں مالی سال 2024-25ء کے لیے بجلی کے فی یونٹ بنیادی ٹیرف میں 7 روپے 12 پیسے تک اضافے کی منظوری دی جس کے بعد ٹیکسوں کے بغیر زیادہ سے زیادہ فی یونٹ کا بنیادی ٹیرف 48 روپے 84 پیسے مقرر کیا گیا۔پاور ڈویژن نے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں اضافے کا فیصلہ یکساں ٹیرف کے لیے نیپرا میں جمع کرا رکھا ہے جس پر نیپرا 8 جولائی کو سماعت کرے گا۔نیپرا کے فیصلے کے بعد وفاقی حکومت بجلی کے بنیادی ٹیرف میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کرے گی۔اضافے کا اطلاق یکم جولائی 2024ء سے کرنے کی تجویز ہے، رواں مالی سال بجلی کے بنیادی ٹیرف میں اضافے کا بجلی صارفین پر تقریباً 600 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔