
ڈھاکا(انٹرنیشنل ڈیسک) بنگلا دیش میں یونیورسٹی کے ہزاروں طلبہ نے شاہراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کر کے مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے سرکاری ملازمتوں میں نام نہاد آزادی کے ہیروز کے بچوں کے کوٹے کو امتیازی سلوک قرار دے کر اس کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق تمام یونیورسٹیوں کے طلبہ نے مظاہروں میں شرکت کی اور مطالبہ کیا کہ کوٹا سسٹم ختم کر کے سول سروس کی ملازمتوں کے لیے میرٹ پر مبنی نظام قائم کیا جائے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق مظاہرے کے ایک رہنما یامین مولا نے بتایا کہ احتجاج میں کم از کم 30 ہزار طلبہ نے حصہ لیا، تاہم مقامی میڈیا نے اس کی تصدیق نہیں کی۔ بنگلا دیش کے دوسرے بڑے شہر چٹاگانگ میں طلبہ نے مظاہرہ اور مارچ کیا اور نعرے لگائے کہ ہم کوٹا سسٹم کو دفن کر دیں گے۔ پولیس نے بتایا ہے کہ ڈھاکا میں طلبہ کے مظاہروں سے کئی گھنٹوں تک ٹریفک میں خلل پڑتا رہا۔ مقامی پولیس کے سربراہ ایف ایم شاہد نے اے ایف پی کو بتایا کہ جہانگیر یونیورسٹی کے 500 طلبہ نے ڈھاکا کو 2گھنٹوں تک جنوب مشرقی بنگلا دیش سے کاٹے رکھا۔ڈھاکایونیورسٹی میں احتجاج ریلی کے دوران مظاہرے کی منتظم ناہید السلام نے کہا کہ ہمارے لیے اب صورت حال کرو یا مرو کی سطح پر پہنچ چکی ہے۔ کوٹا نظام کے تحت آدھی سے زیادہ اسامیاں مخصوص افراد کے لیے رہ جاتی ہیں۔ ملک میں سرکاری ملازمتوں کا 30 فی صد کوٹا ان افراد کے بچوں کے لیے مختص ہے، جنہیں آزادی کے ہیروز کیا جاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے 1971ء میں پاکستان سے علاحدگی میں نمایاں کردار ادا کیا تھا۔ اس کے علاوہ 10 فی صد نشستیں خواتین کے لیے ہیں جب کہ 10 فی صد مخصوص اضلاع کے لیے رکھی گئیں ہیں۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ صرف اقلیتوں اور معذور افراد کا کوٹا باقی رکھا جائے جو مجموعی طور پر 6 فی صد ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ کوٹا سسٹم سے صرف وزیراعظم شیخ حسینہ کے حامیوں اور حکومت نواز گروہوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ عدالتیں شیخ حسینہ کی حکومت کے فیصلوں کے حق میں صرف مہر لگانے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔ اس سے قبل 2018 میں کوٹا سسٹم کو ہفتوں تک جاری رہنے والے طلبہ کے احتجاج کے بعد ختم کر دیا گیا تھا۔لیکن جون میں ڈھاکا ہائی کورٹ نے منسوخی کو غیر قانونی قرار دے کر دوبارہ بحال کر دیا تھا۔ دوسری جانب شیخ حسینہ نے مظاہروں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ عدالت نے طے کر دیا ہے۔