ملک بھر میں سولر انرجی یعنی شمسی توانائی کی دھوم مچی ہوئی ہے۔ یہ دھوم اس لیے مچی ہوئی ہے کہ عوام کو اس سے توانائی کا مسئلہ کسی حد تک حل کرنے میں مدد مل رہی ہے۔ دیہات میں سولر پینلز کے ذریعے لوگ گھروں میں بلب جلارہے ہیں، پنکھے چلارہے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ کھیتوں میں ٹیوب ویل بھی سولر انرجی پر چلائے جارہے ہیں۔ اس کے باوجود مسئلہ مکمل طور پر حل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔
ایک بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ سولر سسٹمز کے ذریعے حاصل ہونے والی توانائی عام آدمی کو بلب جلانے اور پنکھا چلانے میں تو مدد دیتی ہے تاہم ریفریجریٹر اور ایئر کنڈیشنرز وغیرہ چلانے کے لیے یہ ناکافی ہوتی ہے۔ پانی کی موٹر بھی بہت زیادہ بجلی مانگتی ہے۔ گھروں میں چالیس پچاس ہزار روپے خرچ کرکے محض بلب اور پنکھوں ہی کو توانائی فراہم کی جاسکتی ہے۔
حکومت نے آگے بڑھ کر عوام کا ہاتھ تھامنے کا فیصلہ کیا ہے یا کم از کم لگتا تو یہی ہے۔ حکومتی اسکیم کا مقصد یہ بیان کیا جارہا ہے کہ لوگوں کو اپنی بجلی پیدا کرنے میں مدد ملے اور اُنہیں طویل اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے ہاتھوں پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ پنجاب اور خیر پختونخوا میں دو بڑے منصوبے شروع کیے جارہے ہیں۔ خیبر پختونخوا کی حکومت روشن گھرانہ اسکیم کے تحت ایک لاکھ غریب گھرانوں کو برائے نام قیمت پر سولر سسٹم فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کرچکی ہے۔
پنجاب میں بھی ایک لاکھ کروڑ گھرانوں کو سولر سسٹم فراہم کیے جانے ہیں۔ پروگرام یہ ہے کہ 80 سے 90 فیصد لاگت حکومت ادا کرے گی جبکہ 10 سے 20 فیصد تک لاگت عوام سے لی جائے گی۔ عوام پانچ سال کی اقساط میں پوری قیمت ادا کرسکیں گے۔
اب ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ وفاقی اور کسی بھی صوبائی حکومت کے پاس اِتنے مالیاتی وسائل آئیں گے کہاں۔ پنجاب میں اگر اس اسکیم پر عمل کیا گیا تو کم و بیش 100 ارب روپے خرچ ہوں گے۔ کیا حکومت محض ایک مد میں اِتنی بڑی رقم خرچ کرنے کی متحمل ہوسکتی ہے؟
ایک اور مسئلہ بیورو کریسی کا ہے۔ اس وقت اوپن مارکیٹ میں کئی ادارے سولر سسٹم فروخت کر رہے ہیں۔ اِن کے درمیان غیر معمولی مسابقت ہے۔ اس مسابقت کے نتیجے میں عوام کو کچھ ریلیف ضرور ملا ہے کیونکہ قیمتیں نیچے آئی ہیں۔ بیٹریوں کی قیمتیں بڑھی ہیں تاہم یہ مسئلہ بھی حل کیا جاسکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر عوام کو سستے سولر سسٹم فراہم کرنے کے لیے بیورو کریسی نے کسی ایک سپلائر کو منتخب کیا تو مسابقت ختم ہو جانے سے زیادہ قیمت چارج کیے جانے کا بھی احتمال ہے۔
اس وقت ایک کلو واٹ کا سولر سسٹم تین لاکھ اور دو کلو واٹ کا سولر سسٹم چار سے ساڑھے چار لاکھ روپے میں دستیاب ہے۔ عوام کو سولر سسٹمز کی پیچیدگیوں کا بھی علم نہیں۔ پہلے تو سولر سسٹم کے بارے میں عوام کو زیادہ سے زیادہ بتانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ کسی خوش فہمی میں مبتلا نہ ہوں اور حقیقت پسندی کے دائرے میں رہتے ہوئے سولر سسٹم کو اپنانے کی طرف آئیں اور اُنہیں یہ بھی اندازہ ہونا چاہیے کہ حکومت اُن سے مجموعی طور پر کیا چارج کرے گی۔
شہروں میں چونکہ بجلی کی کھپت بہت زیادہ ہے اور عام آدمی کو کئی چیزیں چلانے کے لیے زیادہ بجلی درکار ہوتی ہے اس لیے وہ ایک سے دو کلو واٹ کا سولر سسٹم چاہتا ہے مگر یہ تو بہت مہنگا معاملہ ہے۔ ماہانہ قسط کی صورت میں بھی اُسے اچھی خاصی رقم ادا کرنا پڑے گی۔
حکومت کو اس حوالے سے کوئی بھی اسکیم شروع کرنے سے پہلے تمام ممکنہ نتائج کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے اور یہی عام عوام کو بھی کرنا چاہیے۔ محض جذباتی ہوکر سولر سسٹم لگانے کے بجائے حقیقت پسندی کے عدسے سے تمام معاملات کا جائزہ لے کر معقول ترین فیصلہ کرنے کی صورت ہی میں ریلیف مل سکتا ہے۔ ملک بھر میں سولر سسٹم زیادہ لگ جانے سے گرڈ کی بجلی کی کھپت کم ہو جائے گی اور یوں اُس کی لاگت میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔
ہمارے ہاں یہ رواج رہا ہے کہ لوگ دیکھا دیکھی بہت کچھ کرتے ہیں اور بعد میں کفِ افسوس ملتے رہ جاتے ہیں۔ سولر سسٹم بھی دیکھا دیکھی لگائے جارہے ہیں۔ عوام کو اس معاملے میں تمام حقائق اور ممکنہ نتائج پر اچھی طرح غور کرنا چاہیے تاکہ بعد میں پچھتاوا نہ ہو۔ عجلت میں کیے گئے فیصلے توانائی کے بحران کو مزید خطرناک بھی بناسکتے ہیں۔ بہت سے ملکوں میں لوگوں نے گھریلو سولر سسٹم لگائے تو گرڈ کی بجلی بہت مہنگی گئی کیونکہ اُس کی لاگت وہی رہی مگر کھپت گھٹ گئی۔ اس سلسلے میں آسٹریلیا کے کیس سے بھی بہت کچھ سیکھا جاسکتا ہے۔
